حکومتی نمائندے مستونگ خودکش حملے میں جاں بحق ہونیوالوں کیلئے فاتحہ خوانی بھی نہ کرسکے، ملی یکجہتی کونسل

کوئٹہ (آن لائن) ملی یکجہتی کونسل بلوچستان کے سربراہ مولانا عبدالحق ہاشمی نے بلوچستان سمیت ملک بھر میں علمائ کرام کی ٹارگٹ کلنگ اور خودکش دھماکوں میں شہادت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اور متعلقہ حکام کو ان کی سیکورٹی کے لئے اقدامات اٹھانے ہوں گے سانحہ مستونگ کے لواحقین سے اظہار تعزیت اور فاتحہ خوانی کے لئے حکومتی اور انتظامی حکام کے نہ جانے پر دلی افسوس ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے دیگر عہدیداروں سید حبیب اللہ شاہ چشتی، حافظ نور علی ، سید مومن شاہ، علامہ ولایت حسین ، سید رضا اخلاقی، علامہ جمعہ اسدی، ادریس مغل، اقتدار احمد اور عبدالولی شاکر کے ہمراہ ہفتہ کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہا کہ گزشتہ کچھ عرصے سے کوئٹہ بلوچستان سمیت ملک بھر میں علمائ کرام کی ٹارگٹ کلب ، بم دھماکوں اور خودکش حملوں میں شہادت کے واقعات میں تیزی آئی ہے جس طرح مستونگ میں حافظ حمد اللہ پر حملہ اور اس کے بعد کراچی میں مولانا ضیائ الرحمن کی شہادت کے بعد ڑوب میں جماعت اسلامی کے امیر کے قافلے پر حملہ اور عید میلاد النبی ?کے جلوس پر خودکش حملے میں 72 سے زائد لوگوں کو شہید کیا گیا اور 100 سے زائد زخمی ہوئے اس دلخراش واقعہ نے ہر شخص کے دل کو رنجیدہ کردیا علمائ کرام اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے شہدائ کے اہلخانہ کے غم کو بانٹنے اور دل جوئی کرنے کے لئے ان کے جنازوں شرکت کے علاوہ فاتحہ خوانی کے لئے مختلف علاقوں میںجاتے رہے اور کوئٹہ میں فاتحہ خوانی کا انتظام کیا گیا جہاں پر تمام علمائ کرام موجود رہے تاکہ حکومتی اور انتظامی نمائندے اور اہلکار فاتحہ خوانی کرکے لواحقین کے غم میں شریک ہوکر ان کی دل جوئی کرتے لیکن حکومتی اور انتظامی کسی بھی شخص یا آفیسر نے یہ زحمت گوارا نہیں کی فاتحہ خوانی کے لئے جاتا حالانکہ بلوچستان جیسے قبائلی صوبے میں فاتحہ خوانی کے لئے کسی کے پاس جانے کو اہمیت دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان واقعات کی وجہ سے اور حکومت کی عدم توجہ سے لوگوں کی مشکلات بڑھی ہے اور ان میں شدید تشویش بھی پائی جاتی ہے کہ حکومت نے اپنا فریضہ صحیح طور پر سر انجام نہیں دیا انہوں نے کہا کہ ہم ماورائے قتل کی کسی صورت حمایت نہیں کرسکتے ملزمان کی گرفتاری اور جرم ثابت ہونے کے بعد عدالتی نظام کے ذریعے سزا ہونی چاہئے لیکن ہمارے نظام میں تفتیش سے لیکر دیگر مراحل میں بہت سی خامیاں ہونے کی وجہ سے مجرم بچ نکلتے ہیں۔ اس موقع پر سید حبیب اللہ شا چشتی نے حکومتی اور انتظامی آفیسران کی جانب سے سانحہ مستونگ کے شہدائ کے لواحقین کے ساتھ اظہار افسوس اور فاتحہ خوانی پر نہ جانے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے اس موقع پر علامہ جمعہ اسدی نے سانحہ مستونگ ، حافظ حمد اللہ پر ہونے والے حملے اور دیگر دہشت گردانہ واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے واقعات کا تدارک ممکن بنانا اور علمائ کی حفاظت کرنا حکومت ، انتظامیہ اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں