وفاقی اور صوبائی بجٹ میں پشتون علاقوں کو نظر انداز کر دیا گیا ہے،عثمان کاکڑ

کوئٹہ: پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر و سینٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا ہے کہ صوبے کے وزیراعلیٰ نے کا پشتونوں کے ساتھ روا رکھا جا نے والا رویہ وفاق کے ساتھ ہو تا تو وفاقی پی ایس ڈی پی میں صوبے کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا ازالہ ہوتا، حکومتی پارٹی کے پشتون اتحادی بھی پشتونوں کے ساتھ ہونے والے صوبائی بجٹ میں زیادتی پر خاموش ہیں،وفاقی اور صوبائی بجٹ میں پشتون علاقوں کو نظر انداز کر دیا گیا ہے، وفاقی بجٹ کو آئی ایم ایف اور اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر بنایا گیا ہے، ملک بحرانوں کا شکار ہے بلکہ پارلیمنٹ اور جمہوری اداروں کو غیر فعال بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی مرکزی و صوبائی بجٹ کو مسترد کرتی ہے،چمن میں تجارتی سرگرمیاں بحال کی جائے اگر ایسا نہ کیا گیا تو پی کے میپ بھر پور احتجاج کرے گی۔ ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز صحافیوں کے ایک گروپ سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ موجودہ وفاقی بجٹ کو آئی ایم ایف کی نگرانی اور اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر بنایا گیاہے جس میں عوام کو کوئی ریلیف فراہم نہیں کیا گیا۔ انہوں نے وفاقی بجٹ کو پشتون دشمن بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی بجٹ میں ڈیرہ اسماعیل خان ژوب شاہراہ، لائیو سٹاک یونیورسٹی، موسیٰ خیل، فارسٹ یونیورسٹی زیارت اور چمن یونیورسٹی کے لئے فنڈز مختص نہیں کئے گئے اسی طرح 15وفاقی محکموں میں پشتون بلوچ صوبے کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا۔ کوئٹہ کراچی اور چمن شاہراہوں کے لئے جو رقم مختص کیا گیا تھا اس میں بھی کی کٹوتی کی گئی اسی طرح ڈیرہ اسماعیل ژوب شاہراہ کے لئے وفاقی پی ایس ڈی پی میں صرف ایک ارب روپے رکھے گئے ہیں اگر وفاقی حکومت کا یہی رویہ رہا تو مذکورہ شاہراہ 30سال میں بھی مکمل نہیں ہوپا ئے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلو چستان کی جانب سے صوبائی بجٹ میں پشتونوں کے ساتھ جو رویہ رکھا گیا ہے اگر یہی رویہ وفاقی حکومت کے ساتھ روا رکھتے تو اچھا ہوتا مگر ایسا نہیں کیا گیا،صوبائی بجٹ میں جس طرح پشتون علاقوں کو نظرانداز کیا گیا ہے وہ سب کے سامنے ہیں اس ناانصافی میں پشتون اتحادی بری الزمہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخواملی عوامی پارٹی موجودہ وفاقی اور صوبائی بجٹ کو مسترد کرتی ہے بجٹ میں پنجاب اور سندھ کے لئے جو فنڈز مختص کئے گئے ہیں اس کے مقابلے میں پشتون علاقوں کے لئے 2فیصد بجٹ بھی مختص نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ شنید میں آیا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے 14وفاقی محکموں جن میں پی آئی اے، ریلوے، اسٹیل سمیت دیگر شامل ہیں کو پرائیویٹائز کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو مزدور دشمن منصوبے ہیں جنہیں ہم کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ چمن میں وفاقی حکومت نے سازش کے تحت تجارت کے راستے بند کرکے پشتون عوام کو اس بات پر مجبور کیا ہے کہ وہ ایسا راستہ اختیار کریں کہ جس سے امن وامان کا مسئلہ پیدا ہو۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ پاک افغان بارڈر کو فوری طور پرکھول دیا جائے اور ہمیں احتجاج کرنے پر مجبور نہ کیا جائے۔ چمن میں 2صحافیوں پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے عثمان خان کاکڑ نے کہاکہ حق اور سچ کو دنیا تک پہنچانے والوں کو 3ایم پی او کے تحت گرفتار کرکے تشدد کا نشانہ بنانا قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کے طرز یہاں پر بھی حالات کو خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں