کوہلو، نیشنل پارٹی کے زیراہتما م انٹرنیٹ بندش اور بجلی کی معطلی کیخلاف احتجاجی مظاہرہ
کوہلو:نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام انٹرنیٹ اور بجلی کی معطلی،پانی کی عدم دستیابی اور گرلز کالج کی عدم تعمیر کے خلاف مرکزی رہنما مہراب بلوچ کی قیادت میں احتجاجی ریلی نکالی گئی اور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ ریلی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹر یٹ سے شروع ہوئی جو شہر کے مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے کی شکل اختیار کرگئی شرکاء نے بینرز اور پلے کارڈزاٹھا رکھے تھے جن پر مطالبات کے حق میں نعرے درج تھے احتجاجی مظاہرہ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما محراب بلوچ نے کہا کہ اکیسویں صدی میں بھی بلوچستان کے70فیصد علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت موجود نہیں ہے بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے باوجود ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے آن لائن کلاسسز کا آغاز کیا لیکن بلوچستان کے طلباء کے پاس نہ تو انٹرنیٹ کی سہولت موجودہے اور نہ ہی بجلی جیسی بنیادی سہولت دستیاب ہے پورے صوبے کے طلباء سراپا احتجاج ہیں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت بلوچستان کے طلباء کیلئے تعلیم کے دروازے بند کئے جارہے ہیں گزشتہ روز کوئٹہ میں پرامن احتجاج کرنے والے طلباء کے خلاف پولیس کی بیہمانہ تشدد اور گرفتاری جام حکومت کے منہ پر ایک تھمانچہ ہے طالبات پر تشدد،گرفتاری اور روڈوں پر گھسیٹنا ہماری روایات اور اخلاقیات کے منافی ہے عوام دو و قت کی روٹی روزی کیلئے پریشان ہے صوبائی و وفاقی حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے عمران خان مافیا کے ہاتھوں بلیک میل ہیں پٹرولیم مصنوعات کی اچانک قیمتوں میں اضافہ اس کا منہ بولتا ثبوت ہے اوگرا نے ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں کمی کی سفارش کی مگر وزیراعظم نے اچانک ہی نئی قیمتوں کا اطلاق کردیامہنگائی نے جہاں پہلے ہی غریب لوگوں کی کمر توڑ دی اب حکومت کی جانب سے عوام پر پٹرول بمب گرانے سے مہنگائی میں ایک بار پھر تاریخی اضافہ ہوگا محراب بلوچ نے کہا کہ کوہلو سبی روڈ کی تعمیر براستہ چاکر تنک جلد شروع کی جائے نیشنل پارٹی کے دوراقتدار میں کوہلو سبی روڈ کیلئے تین ارب روپے پی ایس ڈی پی میں شامل کئے گئے لیکن تاحال منصوبے پر کام شروع نہ ہوسکا کوہلو کو ہمیشہ یہاں کے منتخب نمائندوں نے پسماندہ رکھا ہے اور قومیت کا نعرہ لگا کر سادہ لوح مریوں کو دھوکہ دیا گیا مگر اب کوہلو کے لوگوں میں شعور آچکی ہے وہ کسی کے دھوکے اور نرغے میں نہیں آئیں گے عوام اپنے حقوق کیلئے سڑکوں پر آئی ہے نیشنل پارٹی نے ہمیشہ بلوچستان کے حقوق اور سائل وسائل کی بات کی ہے غیر لوکل افراد کوبلوچستان کے کوٹے پر وفاق میں تعینات کیا گیا جو یہاں کے عوام کے ساتھ نا انصافی ہے لاکھوں پڑھے لکھے بے روزگار افراددربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں حکومت عوام کو روزگار اور بنیادی سہولیات کی فراہمی میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے محراب بلوچ نے کہا کہ المیہ یہ ہے کہ تیرہ سال گزرنے کے باوجود گرلز کالج کوہلو کی تعمیراتی مکمل نہ ہوسکا ہزاروں بچیاں میٹرک کے بعد گھر بیٹھنے پر مجبور ہیں دو سال سے اسٹاف گھروں میں بیٹھ کر تنکواہیں وسول کررہیں ہیں گرلز کالج کوہلو کی تعمیر کو فوری طور پر یقینی بنایا جائے اس موقع پر نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر محمد دین مری، جنرل سیکرٹری وڈیرہ علی نواز مری،یاسین مری، عمر مری، وڈیرہ میر ولی، اکبر بلوچ،اوزان بلوچ،ڈاکٹر شاہد بلوچ،عثمان مری اور ربنواز ژنگ نے بھی مظاہرین سے خطاب کیا۔


