تربت یونیورسٹی کو سنگینوں کے سائے میں چلانا، منظور بلوچ کو داخلے سے روکنا قابل مذمت ہے، فپواسا
کوئٹہ (یو این اے) فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک سٹاف ایسوسی( فپواسا )و اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن جامعہ بلوچستان کے ترجمان نے اپنے ایک مذمتی بیان میں بلوچستان یونیورسٹی کے پروفیسر اور تربت یونیورسٹی سینڈیکٹ رکن پروفیسر ڈاکٹر منظور بلوچ کو پیر کے روز تربیت یونیورسٹی میں طلبہ و طالبات کو سیمینار میں لیکچر دینے سے روکنے پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے تعلیم دشمن عمل قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ تربت یونیورسٹی کو سنگینوں کے سائے میں چلانے کی بجائے ایک اعلیٰ تعلیمی ادارے کے طور پر چلایا جائے، اور وائس چانسلر سمیت دیگر اعلی عہدیداروں اور بالخصوص چیف سیکورٹی کے خلاف فوری طور پر ایکشن لیکر ان کو بر طرف کیا جائے۔ یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں تربت یونیورسٹی جیسے ایک اعلیٰ تعلیمی ادارے میں ایک پروفیسر اور مذکورہ یونیورسٹی کے سینیٹ کے ممبر کو لیکچر دینے سے روک دینے کا واقعہ تعلیمی، علمی، اکیڈمک کی تاریخ میں انوکھا اور شرمناک واقعہ ہے۔ بیان میں واضح کیا کہ پروفیسر ڈاکٹر منظور بلوچ کو تربت یونیورسٹی میں سیمینار لیکچر کے لیے مدعو کیا گیا تھا لیکن جب وہ یونیورسٹی کے گیٹ پر پہنچے تو سیکورٹی آفیسر کا برتاﺅ انتہائی غیر مناسب تھا، ان کے لب و لہجے سے معلوم ہی نہیں ہوتا تھا کہ وہ کوئی پڑھے لکھے اور یونیورسٹی کے ایک اعلیٰ منصب دار ہیں۔ بعد ازاں انتظامیہ نے پروفیسر منظور بلوچ سے مذاکرات کیے اور انہیں کہا کہ طلبہ کو داخلے کی اجازت نہیں ہے، جس پر پروفیسر منظور نے ان کی شرط کو مسترد کیا اور اسے ایک بہانہ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایک یونیورسٹی میں تعلیم، اکیڈمکس پر گفتگو نہیں ہو سکتی تو اور کہاں ہوسکتی ہے۔ لہٰذا انہوں نے احتجاجاً واک آﺅٹ کیا اور گیٹ سے ہی واپس چلے گئے۔


