عدالت نے لاپتہ افراد کمیشن پر سردار اختر مینگل کی رپورٹ کو سرد خانے کی نذر ہونے سے بچا لیا، بی این پی

کوئٹہ (آن لائن) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر چیئرمین جاوید بلوچ نے کہا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے لاپتہ افراد کے کمیشن جسے سردار اختر جان مینگل کی سربراہی میں پانچ سو صفحات پر مشتمل کمیٹی نے مرتب کرکے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کیا تھا جس پر ایکشن لیکر ہائی کورٹ نے نگران وزیراعظم سمیت ذمہ داروں کو طلب کرلیا ہے جو سردار اختر جان مینگل واس کی سربراہی میں شامل قائم کمیٹی کا تاریخی کارنامہ ہے جس کا سہرا سردار اختر جان مینگل کے سر جاتا ہے جنہوں نے جس طرح شب و روز ایک کر کے اس کمیشن کو باضابطہ اجلاس منعقد کروا کر کوئٹہ سمیت دیگر شہروں میں لا پتہ افراد کے خاندانوں کو کمیشن کی روبرو پیش کرنے میں اپنی بھرپور صلاحیتوں کو استعمال کر کے کامیابی سے ہمکنار کیا جس پر ناقدین تنقید بھی کرتے رہے لیکن آج وقت حالات نے ثابت کر دیا کہ سردار اختر جان مینگل نے بلوچستان سمیت لاپتہ افراد کے لیے اسمبلی میں جو آواز بلند کی تھی جس کی پاداش میں ان کے خلاف مقتدر قوتوں کی جانب سے ڈیتھ اسکواڈ کے ذریعے گھیرا تنگ کرنے کی کوشش کی گئی اور چار ماہ تک وڈھ میں ڈیتھ اسکواڈ کے ذریعے مورچہ بندی فائرنگ راکٹ بازی اور قومی شاہراہ سے ٹرانسپورٹروں کو نشانہ بنا کر وڈھ میں سیاسی کھیل کھیلنے کی مذموم کوشش کی گئی جسے سردار اخترجا ن مینگل نے اپنی قومی سیاسی اور علاقائی ذرائع استعمال کر کے ناکام بنا دیا جسے بعض قوتیں قبائلی یا باہمی مسئلہ قرار دے کر سردار اختر جان مینگل کوسیاسی افق سے کنارہ کشی پر مجبور کرنے کی ناکام کوشش کرتے رہے لیکن سیاسی اور قومی بصیرت دور اندیشی کا مظاہرہ کر کے سردار اختر جا مینگل نے ڈیتھ اسکواڈ اور اس کے متعین کر دہ باگ ڈور سنبھالنے والے پشت پنائی کرنے والوں کو ناکامی سے دوچار کر دیا اب جب کہ ہائی کورٹ نے لاپتہ کمیشن رپورٹ کو سرد خانے کی نظر ہونے سے بچانے کے لیے جو فیصلے دیا ہے اس سے لاپتہ افراد و ان کے علاوہ جو پہلے بھی اس کمیشن پر اعتماد کر کے اپنے تمام کوائف ثبوت کمیشن کے روبرو پیش کر کے اس سے امیدیں وابستہ کیے رکھا، اسلام آباد ہائی کورٹ کی فیصلے کے بعد سردار اختر جا مینگل نے لاپتا افراد کی بابت اور بلوچستان کے لیے وہ کارہ نمایا سرانجام دیا ہے جس سے تاریخ میں رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا کہ جرات مند قومی سیاسی لیڈر نے تمام تر ریاستی دبا دھونس دھمکیوں حربوں علاقائی مسئلے مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی اس آئینی قانونی انسانی اور سیاسی حق کو استعمال کرتے ہوئے تاریخ ساز کمیشن رپورٹ مرتب کر کے اعلی سیاسی اور عملی رہنما ہونے کا ثبوت دیا ہے کیونکہ اب سیاسی حالات کے تناظر میں بہت سے نام نہاد قوتیں جو قوم پرستی انسان دوستی اور وطن دوستی کی باتیں کرتے ہیں لیکن اپنی نشستوں کے لیے اسلام اباد اور غیر سیاسی چوکٹوں پریا سلیکٹڈ قیادت کے سامنے سجدہ ریز ہے لیکن بی این پی نے جس طرح اس کمیشن کے ذریعے یا سردار اخترجا مینگل نے بلوچستان کے جملے بنیادی مسائل کے لیے آواز بلند کی وہ تاریخ میں یادگار رہے گا اور بلوچستان کے عوام جس طرح سردار مینگل اور بی این پی کو ایوان میں نمائندگی کے لیے بھیجا تھا وہ حق بی این پی اور اس کی قیادت نے ادا کر دیا ہے کیونکہ بی این پی کا مقابلہ ہمیشہ سے بلوچستان مخالف قوتوں اور قوم پرستی مذہب پرستی کا لبادہ اوڑھنے والے نام نہاد موقع پرست قوتوں سے رہا ہے جو عسکری نرسری میں نومولود اور ناکارہ لوگوں کو خراش تراش کر بطور بلوچستان کا نمائندے پیش کرنے کی کوشش تاہنوز جاری ہے بلوچستان میں اختر مینگل اور بی این پی کے خلاف قوتوں کو یکجا کرنے کے لیے کوشش کی جا رہی ہے جبکہ عوام کو نظر انداز کر کے اسلام اباد راولپنڈی میں نشستوں کی تقسیم پلینگ فیلڈ اور دیگر سیاسی معاملات کو مل بیٹھ کر مقدر کے زیر اثر بنایا جا رہا ہے جبکہ بی این پی نے عوام کو اپنا طاقت بنا کر وڈھ سے کوئٹہ تک سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں تمام تر رکاوٹوں مسائل مشکلات کے باوجود کوئٹہ میں تاریخی جلسہ منعقد کیا جس کی کوریج کو روکنے کے لیے صحافیوں کو بھی روکا گیا جس کے باوجود کامیاب و تارخی ریلی اور جلسہ عام نے ناقدین کو بھرپور جواب دیا اور موجودہ ہائی کورٹ کے فیصلے نے مہرثبت کر دیا کہ بی این پی کے خلاف گزشتہ چھ مہینوں سے جاری وڈھ میں براہ راست مورچہ بند ہو کر عوام کے خلاف معاذ کھولا گیا وہ اسی اسلام اباد ہائی کورٹ کی پیش کرتے ہیں لاپتہ کمیشن کا پیش خیمہ تھا جسے ہائی کورٹ نے مزید توانا بنا کر لاپتہ افراد طلبہ کو پیش کرنے کا حکم صادر کیا جو انسانی سیاسی اور قومی بنیادوں پر ایک ہے پیشرفت ہے جس سے بلوچستان کے عوام سردار اختر جان مینگل کی کاوشوں کا سراہاہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں