نگراں حکومت جن کاموں میں لگی ہے یہ کوئی اور کروا رہا ہے، عمران خان اخلاق گراوٹ کے قائل نہیں، محمود اچکزئی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) پشتونخوا میپ کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستان تب ہی بچ اور چل سکتا ہے جب یہاں آئین کی حکمرانی، پارلیمنٹ کی خود مختاری اور قومی برابری ہو۔ اس ملک میں اپنی تاریخی زمینوں پر آباد قوموں کے وسائل پر ان کا واک و اختیار ہو، قوموں کے زبانوں اورثقافت کا احترام ہو، سیاست میں مداخلت نہ ہو اور ہر ادارہ آئینی دائرہ کار میں رہے۔ دنیا کی طاقتور قوتوں کی نظریں پشتونخوا وطن کی قدرتی وسائل پر ہیں۔ پشتونوں نے ہوش کے ناخن نہ لئے، متحد نہ ہوئے تو انجام مڈل ایسٹ کے ممالک عراق، شام، مصر، لیبیا اور موجودہ فلسطین جیسی ہوگی۔ وہاں کے پیٹرول، تیل کے ذخائر پر قبضہ جمانے کیلئے لوگوں نے وہاں خانہ جنگی برپا کی۔ چمن دھرنے کے مطالبات نہ مانے گئے تو 2 دسمبر کے جلسہ عام میں اس دھرنے کو وسعت دینے کیلئے لائحہ عمل طے کرینگے۔ نگران حکومت کے پاس صرف الیکشن کروانے کے اختیارات ہے۔ یہ جن کاموں میں لگ چکے ہیں یہ سب ان سے کون کروا رہا ہے؟ عمران خان کے ساتھ ہمارا سیاسی اختلاف اپنی جگہ قائم ہے لیکن کچھ تو شرم و حیاءہونی چاہیے۔ اخبارات وغیرہ میں اس کے خلاف جو کچھ لکھا جارہا ہے یہ پڑھنے کے لائق ہے ہی نہیں۔ سیاست میں اس درجے کے اخلاقی گراوٹ کے ہم کبھی قائل نہیں۔ پہلے اسے آسمان کی بلندیوں تک پہنچایا گیا اب اس کے خلاف یہ سب لکھا جارہا ہے۔ پہلے یہ چیزیں کسی کو پتہ نہیں تھی؟ پاکستان کے جاسوسی ادارے گدلے پانی میں سوئی ڈھونڈ سکتی ہے تو کیا انہیں یہ چیزیں پہلے پتہ نہیں تھی جو اب یہ سب کچھ لکھا جارہا ہے؟ سیاست میں اتنی اخلاقی تنزلی غلط عمل ہے۔


