ڈی سی کیچ کے تربت دھرنے کے شرکاءسے مذاکرات، 40 لاپتہ افراد کی فہرست اور دیگر مطالبات پر عملدرآمد کی یقین دہانی
تربت(یو این اے)بالاچ مولابخش کی ایف آئی آر درج نہ کرنے اور دیگر مطالبات کے حق میں تربت چوک پر 30نومبر کوآٹھویں روز بھی دھرنا جاری رہا۔دھرنا میں مند کے مقتول شعیب حمید کے والد ،چچا اور دیگر فیملی ممبران شریک ہیں،دھرنااور ریلی میں بلوچ یکجہتی کمیٹی،حق دو تحریک،بلوچ ویمن فورم کے رہنما اورکارکنان موجود تھے۔جبکہ بی ایس او پجار کے مرکزی چیئرمین بوہیر صالح اور دیگرسیاسی کارکنوں نے احتجاجی دھرنا میں شرکت کرکے فورسز کے ہاتھوں قتل ہونے والے اور لاپتہ افراد کے لواحقین سے یکجہتی کااظہارکیا۔بالاچ مولابخش اورشعیب حمید کے قتل کی ایف آئی آر درج نہ کرنے اوردیگر مطالبات کے حق میں شہید فدا چوک پر دھرنا گاہ سے ریلی نکالی گئی،ریلی کے شرکانے تربت سٹی پولیس تھانہ اور ڈپٹی کمشنر کیچ کے دفتر کے سامنے مظاہرہ کرکے مقتولین کے قاتلوں کو گرفتار اورانکے کیخلاف ایف آئی آردرج کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کیچ حسین جان بلوچ نے مظاہرین کے پاس آکر مذاکرات کیئے، لاپتہ افراد کے 40 نام وصول کیئے، انکی بازیابی کی یقین دلایا، شعیب اور بالاچ کے حوالے سے ایف آئی آر کیلئے عدالت جانے کا مشورہ دیا۔ اور بارڈر پر مقتول شعیب حمید کی گاڑی فوری طور پر چھوڑنے کی یقین دہائی کی بعد ازاں ریلی واپس شہید فدا چوک دھرنا گاہ پہنچی، مطالبات پر عملدرآمد تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیابلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماں اوردیگر مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ بالاچ بلوچ اورشعیب بلوچ کے نامزدتمام قاتلوں کو گرفتار کرکے سزا دی جائے،سی ٹی ڈ ی کو بلوچستان بھر میں غیر مسلح کرکے سی ٹی ڈی کے ذریعے بلوچ نسل کشی کا سلسلہ بند کیاجائے، سرکاری پشت پناہی میں چلنے والے ڈیتھ اسکواڈز کو بلوچستان بھر میں غیر مسلح کیا جائے،تمام لاپتہ افراد اور بلخصوص ضلع کیچ کے 60نوجوانوں کورہا یا انہیں فوری طور پر عدالت میں پیش کیا جائے،تربت سمیت بلوچستان میں جبری گمشدگی کا سلسلہ بند کیا جائے، جعلی انکاو نٹرز میں جتنے افراد کو قتل کیا گیا ہے ،حقائق سامنے لانے کیلئے عدالتی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جائے ،6نکاتی مطالبات پر عملدرآمد تک احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔


