شبیراحمد بزنجو کو بلاتحقیق قتل کیا گیا، مسلح تنظیم ٹھوس ثبوت پیش کرے، اہلخانہ

تربت (یو این اے) دشت کے علاقہ ڈڈھے کے رہائشی شبیر احمدبزنجو کے اہلخانہ نے جاری کردہ پریس ریلیز بیان میں کہاہے کہ 27نومبر2023کو کیچ کے علاقہ ڈنک میںنامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے شبیر احمد بزنجو کوبلا کسی جرم کے قتل کردیا ہے۔جسکی ذمہ داری تنظیم بی ایل اے نے قبول کرکے یہ الزام لگایا ہے کہ شبیر نے یاسررند کے ساتھ مل کر لوگوں کی زمینوں پر زبردستی سے قبضہ کر رہے تھے اور دوسری طرف یہ بھی الزام بھی لگایاگیاہے کہ وہ تنظیم کے کارکنوں کے نقصان دہی کے درپے تھے۔ ہم اہل خانہ بی ایل اے کے مذکورہ الزامات کو مسترد کرتے ہیں یہ سب بے بنیاد الزامات ہیں نہ وہ کسی کے زمینوں کے قبضہ گری میں ملوث تھے اور نہ وہ کسی کے نقصان کے در پے تھے، نہ انکا کسی سرکاری ادارے سے تعلق تھا بلکہ وہ بلا تحقیق قتل کیا گیاہے ۔ البتہ وہ اپنے ذاتی مسائل اورکچھ مجبوریوں کی وجہ سے یاسر رند کے پاس آمدو رفت کرتا تھا۔ اپنے چند رشتہ داروں کے مسائل حل کرنے کیلئے کوشاں تھے ۔اورگھر کا چولہا جلانے کیلئے تعمیراتی کاموں میں ٹھیکہ پر کام کرتا تھا۔ اسلئے تنظیم کی جانب سے لگائے گئے سب الزامات بے بنیاد ہیں۔ یاسر رند یا شبیر بزنجوکے کوئی ایک زمین کی نشاندہی کیاجائے جو انہوں نے جبراً قبضہ کی ہیں۔ ہم اہلخانہ تنظیم سے اپیل کرتے ہیں کہ اگر حقیقت میں شبیراحمد کوبی ایل اے نے قتل کیا ہے وہ اپنے ثبوت ہمارے سامنے پیش کریںاگر تنظیم اپنے الزامات ثابت نہیں کرسکتے تو پھر اپنی غلطی تسلیم کرکے فیملی اورقوم سے معزرت کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں