خانہ فرہنگ ایران اور بلوچستان کی صحافتی تنظیم کے زیر اہتمام فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے تقریب

کوئٹہ(یو این اے )بلوچستان فورم آف انوائرمنٹل جرنلسٹ اور خانہ فرہنگ ایران کے زیراہتمام کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں غزہ و فلسطین میں اپنی فرائض کے دوران جان شہادت نوش کرنے والے صحافیوں سے اظہار یکجہتی کرنے اورخراج عقیدت پیش کرنے کیلئے شہدا کے نام پر پودے و درخت لگائے گئے اور اظہار یکجہتی تقاریب کا انعقاد کیاگیا۔ اس سلسلے میں ہفتہ کو کوئٹہ میں مرکزی تقریب کوئٹہ میں منعقد ہوا جس سے ڈائریکٹر جنرل خانہ فرہنگ ایران کوئٹہ سید ابو الحسن میری،بلوچستان فورم آف انوائرمنٹل جرنلسٹس کے صدر ظاہر خان ناصر، سنیئر صحافوں عبدالشکورخان ،نعمت اللہ اخونذادہ اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہزاروں شہادتوں کے باوجود فلسطین میں اسرائیل کی بربریت بدستور جاری ہے جبکہ اب تک 18ہزار افراد شہید ہو گئے ہیں جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین شامل ہے اور ساتھ میں ستر سے زائد صحافی بھی شہید ہوچکے ہیں ان شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے ہم نے آج کویٹہ اور صوبے کے دیگر علاقوں میں تقاریب کا انعقاد کیاہےاور پوری دنیا سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فلسطین میں اسرائیل کی جانب سے جو ظلم و زیادتی جاری ہے ان کو بند کیا جائے اور مغربی قوتیں ظلم پر آنکھیں بند کرنے کی بجائے فلسطینی مظلوم عوام کی فریاد سن کر کارروائی کیا جائے اسی طرح اسلامی قوتیں بھی میدان میں آکر فلسطینیوں کی معاونت کرنے کیلئے ایک آواز ہو کر کردار ادا کریں، صحافی تو قلم اور کمیرے کے زریعے آواز اٹھاکر اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے صحافی برادری اپنے مظلوم فلسطینوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کرتے ہوئے ان کی آواز انسانی حقوق کی تنظیموں تک پہچانے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گےمقررین نے کہا کہ غزہ اور فلسطین میں جاری ظلم وبربریت اور صحافیوں کی شہادتوں پر ایران اور پاکستان سمیت دنیا بھر کی مسلم حکومتیں عملی اقدامات اٹھائیں۔ کویٹہ اور بلوچستان میں شہدا غزہ اور صحافیوں کی یاد میں درخت لگانے کا اہتمام خوش آئند امر ہے ہم غزہ شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ہیں اسرائیلی بمباری سے اب تک 18 ہزار بچے، خواتین اور بوڑھے شہید ہوچکے ہیں مگر انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں ان انسانیت سوز واقعات پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہے ہیں جوکہ حیران کن ہیں،دریں اثنا ژوب لورالائی مستونگ خاران قلعہ عبداللہ چمن اور دیگر علاقوں میں بھی فلسطینیوں شہیدوں کے نام پر پودے اور درخت لگادئیے گئے اور تقاریب کا انعقاد کیاگیا اور فلسطین کی آزادی کے کیے خصوصی دعائیں کی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں