بلوچستان کی سیاست کو بدنام کرنیوالا پتلی گلی سے نکل کر لیڈر بن گیا، سردار اختر مینگل

خضدار(این این آئی)بلوچستان نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کے مشترکہ امیدوار سردار اختر جان مینگل نے وہیر، زہری، کھوڑی، گزگی سمیت دیگر علاقوں میں مختلف مقامات پر جلسوں، اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترقیاتی کام تو انگریز نے بہت کئے پھر لوگوں کو اختیارات حاصل نہیں تھا انہی پہاڑوں سے سردار نور الدین خان مینگل بغاوت کی، ایک ہوتی ہے انسانی ترقی، ایک ہوتی ہے انسانوں کی غیرت، ننگ و ناموس کی حفاظت، ترقی تو کی جا سکتی ہے مگر ننگ و ناموس، غیرت، عزت ایک بار جائے پھر نہیں آ سکتی عزت کمانے میں نسلیں لگ جاتی ہیں عزت گنوانے میں منٹ بھی نہیں لگتا وڈھ کا نام جنہوں نے ملک بھر میں بدنام کیا آج وہ یہاں میں الیکشن میں پھر سے حصہ لے رہے ہیں شکست پھر ان کا مقدر ہو گا خود کو بلوچستان کا لیڈر کہنے والا جھالاوان اور اب پتلی گلی سے نکلنے والا لیڈر بن چکا ہے انہوں نے کہا کہ بی این پی میں تمام علاقوں سے شمولیت اختیار کرنے والوں کو اپنی اور پارٹی کی جانب سے خوش آمدید کہتا ہوں اس موقع پر سردار نصیر موسیانی، وڈیرہ غلام سرور، میر گل خان ساسولی سمیت کے بی این پی اور جمعیت علمائے اسلام کے ضلعی و مرکزی عہدیداران پر موجود تھے انہوں نے کہا کہ یہاں بڑے بڑے طرم خان ووٹ لینے آ جا رہے ہیں وہ اردو میں تقریر کرے، سندھی میں تقریر کرے، براہوئی میں تقریر کرے اختر حتیٰ کہ عرب میں تقریر کرے بھی تو اختر کو بھولتا نہیں ان سے کہنا چاہتا ہوں کبھی ان کا بھی نام لیں جنہوں نے زبردستی کمرے میں بند کر کے آپ سے وزیراعلیٰ کا استعفیٰ لیا اب ان لوگوں سے کیا امید کرتے ہیں جنہوں نے اپنے سگے ماموں کو شہید کیا بھائی کو حتیٰ کے اپنے بھائی کے اولاد کے بھی ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جس کی قبر تک کا کسی کو معلوم نہیں ہے وہ جو اپنوں کا نہیں ہوا آپ لوگوں کا کیسے ہو گا مری معاہدے کے وقت وزارت اعلیٰ نہ ملنے پر پسٹل نکالنے والا اب ووٹ کیلئے کلاشنکوف یا راکٹ لانچر لائے اب تک معلوم نہیں انہوں نے کہا کہ ووٹ ضمیر کافیصلہ ہوتا ہے جو نہ ادھار میں دیا جا سکتا ہے نہ کہ رشتہ داری میں،ووٹ اس کو دیں جو آپ کے غیرت، ننگ ناموس، عزت کی وارثی کا حق ادا کر سکتا ہو جو اس سرزمین سے محبت رکھتا ہو جو آپ لوگوں کی بات کر سکتا ہو اگر آپ ما?ں کو بیوہ اور بچوں کو یتیم کرنے والوں کو ووٹ دیں گے تو یہاں بیواﺅں اور یتیموں کی تعداد بڑھے گی ملک میں مختلف پارٹیاں ہیں ہمارے علاقوں میں اتنے پولنگ اسٹیشن نہیں ہوں گے جتنی ملک میں سیاسی پارٹیاں ہیں انہوں نے اتنی آدھی پارٹیاں تو بدل لی ہیں غوث بخش بزنجو کے نام سے سیاست کرنے والوں اب تک درجنوں پارٹیاں بدلیں کوئٹہ میں جلسہ میں اجازت نہ ملنے پر پی پی میں شمولیت اختیار کر لی نظریہ اور سوچ کا نام سیاسی پارٹیاں ہوتی ہیں اور ہر الیکشن میں نظریہ بدلنے والوں سے کیا امید کی جا سکتی ہے لیڈر وہ ہے وہ آپ کو اچھے برے کی تعمیز، نظریہ دے ہر دن پارٹیاں بدلنے والوں سے کوئی امید رکھنا خوش فہمی ہے جمعیت اور بی این پی سیاسی نظریہ رکھنے والی پارٹیاں ہیں بی این پی نیشنل عوامی پارٹی کا تسلسل ہے نیشنل عوامی پارٹی کے رہنما?ں نے جیلوں، قلی کیمپوں میں اذیت برداشت کیں نیپ کے اکابرین کو حقوق مانگنے پر زندانوں میں ڈال دیا گیا ایوب مارشل لائہو یا بھٹو مارشل لائان کا ساتھ کس نے دیا آپ سب اس سے بخوبی واقف ہیں مشرف کے دور اقتدار میں ہمارے خلاف کریک ڈا¶ن ہوا مجھے سمیت 7 سو سے زائد میرے دوستوں جیلوں میں قید تھے اس کے مشرف کے ہمدرد کون تھے آج وہی اپنے روپ بدل کر کہاں کھڑے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں