پشتونخوا میپ پارٹی نہیں پشتونوں کا لشکر ہے، بلوچوں کے صوبے میں بلوچ، پشتون ایک ہیں، محمود خان اچکزئی
کوئٹہ (این این آئی)پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمینNA-263کوئٹہ سٹی IIاور NA-266چمن ، قلعہ عبداللہ سے پارٹی کے نامزد امیدوار محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ پشتونخوامیپ پشتون قوم کے ان بہادر سپوتوں کی پارٹی ہے جو پوری دنیا میں بے انصافی کیخلاف ہے اور ظالم ومظلوم کی لڑائی میں چاہے کہیں بھی ہو ظالم کے خلاف اور مظلوم کے ساتھی اور حامی ہے۔ پاکستان میں ایک ساتھ متصل پشتون قوم کی تاریخی سرزمین جو اس وقت مختلف حصوں میں تقسیم ہے جبکہ ملک کے دیگر اقوام اپنے اپنے صوبوں میں آباد ہیں پشتونخوامیپ کا مطالبہ یہ ہے کہ یہاں جنوبی پشتونخوا کے پشتون بلوچ کے ساتھ صوبے میںہیں، اٹک میانوالی پنجاب کے ساتھ ہیں، خیبرپشتونخوا اور فاٹا کی قسمت کا کوئی پتہ نہیں اور ابھی تو فاٹا کے لوگوں پر تخریب کاری کے الزامات بھی لگائے جارہے ہیں،ہمیں پوری دنیا کو یہ بات بتا کر قانع کرنا ہوگا بڑی دلیل کے ساتھ کہ ملک میں ایک ساتھ متصل جغرافیہ میں آباد پشتون قوم کا بولان تا چترال پشتونستان کے نام سے اپنا صوبہ ہو، جس کا اپنا پشتون گورنر، پشتون وزیر اعلیٰ ہو اور اس صوبے پر پشتونوں کی بااختیار حکومت ہو۔ آج پوری دنیا نے یہ فیصلہ کیا ہوا ہے کہ جس سرزمین پر جو قوم آباد ہے وہ اس بات کے حقدار ہیں کہ وہ اپنی سرزمین پر اپنی حکمرانی قائم کرے۔ ہم نے پارٹی صرف مردہ باد، زندہ آبادکیلئے نہیں بنائی بلکہ یہ پشتون قوم کا وہ لشکر ہے جو اس قوم کی سرزمین اور وسائل سے قبضہ گر قوتوں کو ہٹا کر اپنے قوم کی حکمرانی قائم کرنا چاہتی ہے یہ پشتونخوامیپ کا پروگرام اور ہدف ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے حلقہ NA-262کوئٹہ Iاور پی بی38کے انتخابی مہم کے سلسلے میں تحصیل کچلاغ بلیلی علاقائی یونٹ کے زیر اہتمام ملک علیزئی ناصر کی رہائش گاہ پر منعقدہ عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جس سے پارٹی کے نامزد امیدوار پی بی38ملک یاسین خان بازئی، صوبائی سینئر نائب صدر، ضلع کوئٹہ کے سیکرٹری سید شراف آغا،صوبائی آفس سیکرٹری ملک عمر کاکڑ، ضلعی سینئر معاون سیکرٹری معلم سعید خان کاکڑ، ضلعی معاونین بشیر کاکڑ ایڈووکیٹ، ڈاکٹر تواب اچکزئی،تحصیل سیکرٹری ملک نادر کاکڑاور حمت ناصر نے خطاب کیا۔ محمود خان اچکزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ پارٹی جب بن رہی تھی تو بلیلی کے پہاڑوں سے لیکر پشتون آباد تک یہ سارا ویران غیر آباد علاقہ تھا، خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کا سب نے ساتھ چھوڑ دیا اور بلوچوں کا صوبہ بننے کے بعد مختلف ازموں میں تعلیم یافتہ لوگ شامل ہوکر گزارہ کرنے لگ گئے لیکن خان شہید نے یہ نعرہ بلند کیا کہ ایسا نہیں ہوگا پشتونوں نے اپنے وطن کی دفاع کیلئے بڑی قربانیاں دیں ہیں اور جدوجہد کی ہے اور آج بے گھر رہ جائیں یہ مجھے منظور نہیں۔ خان شہید نے اپنے پرانے ساتھیوں میر غوث بخش بزنجو، عبدالغفار خان اور خیر بخش مری کے ساتھ اپنی رفاقت اس بات پر توڑی کہ اس پشتون قوم کا اپنا صوبہ اپنا اختیار اور اپنی حکمرانی ہونی چاہیے اس طرح قبول نہیں کہ آپ کی قوم بلوچ تو اپنے صوبے کے مالک ہو اور پشتون مختلف صوبوں میں تقسیم ہو۔ اس بات پر خان شہید بالکل تنہا رہ گئے اور جب لوگوں کو اکھٹا کرنا شروع کیا تو اس میں کوئی تعلیم یافتہ شخص نہیں تھا، کلیوال لوگوں نے خان شہید کا اس بات پر ساتھ دیا آج کوئٹہ کے ایک پہاڑسے لیکر دوسرے پہاڑ تک یہی زمین پشتونوں کی آبادی کا مسکن اورگھر ہے اور یہ ہر تھکے ماندے پشتون کیلئے ایک ایسا سایہ ہے کہ وہ یہاں آرام اور سکون حاصل کرسکتے ہیں۔ ہمیں اپنا صوبہ اور اختیار حاصل کرنے کیلئے تمام پشتونوں کو اکٹھا اور منظم کرنا ہوگا، پشتونخوامیپ نے ایوبی مارشل لاءسے لیکر پھر آخری مارشل لاءتک سب کو مردہ آباد کہا ہے جو کسی اور نے نہیں کیا۔ پشتونخوامیپ وہ واحد سیاسی جماعت ہے جنہوں نے آئین پر کسی کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کیا اور نہ ہی کسی ایسے سیاسی اتحاد کا ساتھ دیا ہے جو غیر آئینی اقدامات کا حصہ رہے ہیں۔ پاکستان میں ہماری پارٹی کی ایسی شہرت بنی ہے کہ پارٹی نے جس کا بھی ساتھ دیا ہے پھر پیچھے نہیں ہٹی اور آج تمام پارٹیاں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ پشتونخوامیپ آئین کی بالادستی چاہتی ہے اور ہر ظالم کے خلاف ہے کسی سے اس بنیاد پر ہم نفرت نہیں کرتے کہ ان کا رنگ، نسل، مذہب، دین اور عقیدہ کیا ہے۔ ہم آدم علیہ اسلام اور بی بی حوا انا کے بچوں کو اشرف المخلوقات اور انسان سمجھتے ہیں اور انسانیت کے ناطے ان کا احترام فرض سمجھتے ہیں۔پشتونخوامیپ دنیا کے تمام انسانوں سے بھی یہی توقع رکھتی ہے کہ وہ ہماری زبان،ثقافت، نسل، مذہب اور عقیدے کا احترام کرے ہم ان کے عبادت گاہوں کو احترام کی نظر سے دیکھیں گے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہم نے کاروبار میں پوری دنیا کے لوگوں کے ساتھ ایسے رشتے بنانے ہونگے کہ ان کے ہاں پشتونوں کی پہچان ایماندار، امانتدار اور قول کے پکے ہونے چاہیے۔ اور ان کا پشتونوں پر اعتماد قائم ہو۔ پشتون تاجروں نے اعتماد اور بھروسہ بنادیا تو دنیا کے لوگ ان کے ساتھ بہترین تجارت کرینگے۔ آج پشتونوں کو استحصالی قوتوں نے اپنی معدنیات سے بیدخل کرکے دو وقت کی روٹی کیلئے اپنے د و ہاتھوں کی محنت مزدوری پر مجبور کیا ہے۔ پشتون قوم کے بے ہنر ہاتھ بیلچہ، گنتی کے کام کے علاوہ دیگر کام میں کمزور ہیں۔ جن قوموں نے اپنے بچوں کو ہنر مند بنایا ان قوموں کے لوگ آج اپنی انہی دوہاتھوں سے یہ بڑی بڑی گاڑیاں، کیمرے، گھڑیاں،قیمتی چیزیں بناسکتے ہیں، ایک انجینئر کا غذ کے ٹکڑوں پر پنسل سے لکیریں کھینچ کر لاکھوں روپے کے عیوض صرف ایک نقشہ تیار کرتے ہیں اور ایک ڈاکٹر ایک گھنٹے میں ایک آپریشن کرکے لاکھوں روپے کمالیتے ہیں اس لیئے ہمیں اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم اور ہنر دینی ہوگی انہیں معاشرے کے کارآمد افراد بنانے ہونگے۔ اپنے بچوں کو اپنی تاریخ، نسل اور قوم، قبیلہ سے آشنا کرانا ہوگا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آزاد باغی چکور کو پکڑنے کیلئے شکاری یہ چال چلاتے ہیں کہ اپنی غلام پالے ہوئے اور عادت چکور کے ذریعے آزاد چکوروں کو گھیر لیتے ہیں۔ لہٰذا سب نے احتیاط سے کام لینا ہوگا جو لوگ ان کے جاموں اور ان کی بال وپر میں آئینگے وہ سب ان میں سے نہیں۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ووٹ قومی امانت اور قومی ذمہ داری ہے اسے استعمال کرنے کیلئے عوام نے انہتائی احتیاط اور سوچ بچار سے کام لینا ہوگا ہم قطعاً قبیلے اور عزیزی کے نام پر ووٹ نہیں مانگتے بلکہ عوام سے کہنا چاہتے ہیں کہ آپ لوگ خودامیدواروں کو پرکھیں جو بھی خدمتگار ہو، کارکن ہو اور عوام کی مشکلات کو دور کرنے کیلئے کام کررہا ہو ووٹ ان کا حق ہے۔ پشتونخوامیپ کے تمام امیدوار عوام دوست، ملنسار ہیں انہیں منتخب کرکے اپنی مشکلات اور مسائل کو دور کریں۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ کسی کی سرزمین پر قابض ہونا ظلم ہے اور اپنی سرزمین کسی قبضہ گیر کے حوالے کرنا بے غیرتی ہے ہمیں نہ کسی کے زمین کی ایک انچ قبضہ کرنا چاہیے اور نہ ہی اپنی سرزمین اوروسائل کسی کیلئے چھوڑنے چاہیے۔ پشتونخوامیپ کے کارکنوں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ پشتون قوم کے تمام قبیلوں کو ایک لڑی میں ایسے پرونا ہوگا کہ لوگ رشک کریں۔ ہمیں ایسی عزیزی اور قرابت سے دور رہنا ہوگا کہ میرے قبیلے کا کوئی بندہ دوسرے قبیلے کے آدمی پر ملامت ہو اور میں صرف اس لیئے ان کا ساتھ دوں کہ وہ میرا عزیز ہے۔ اس بات سے نکل کر ہم اپنے تمام مشکلات کو دور کرسکتے ہیں۔


