جامعہ بلوچستان کے ملازمین اور اساتذہ پنشنز اور تنخواہوں سے محروم

کوئٹہ (آن لائن)جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان کے پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، شاہ علی بگٹی، نذیر احمد لہڑی، فریدخان اچکزئی، نعمت اللہ کاکڑ اور گل جان کاکڑ نے اس امر پر سخت تشویش کا اظہار کیا کہ 24 دنوں کے گزرنے کے باوجود تاحال جامعہ بلوچستان کے اساتذہ کرام اور ملازمین کو جنوری کی تنخواہ اور پینشنرز کو پینشنز نہیں ملی جبکہ نومبر 2023 کی مکمل تنخواہ ابھی تک نہیں ملی اور ریسرچ سینٹرز کے ملازمین کو تو اعلان شدہ 35 فیصد اضافہ شدہ تنخواہ سمیت ہاﺅس ریکوزیشن ابھی تک ادا نہیں کی گئی اور معذور ملازمین کو معذوری الاونسز کی ادائیگی بھی نہیں کی گئی لیکن افسوس ناک بات ہے کہ کسی کو بھی جامعہ کے اساتذہ کرام اور ملازمین کی انتہائی تشویشناک حالت کی فکر نہیں بیان میں کہا گیا کہ سابقہ صوبائی و مرکزی حکومت، ایچ ای سی اور موجودہ نگران حکومتوں نے مکمل طور پر مجرمانہ خاموشی اختیار کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے کہاکہ سبکدوش ہونے والے غیر قانونی طور پر مسلط وائس چانسلر نے اپنے چار سالہ دور میں جامعہ بلوچستان کو سخت مالی و انتظامی بحران میں دھکیلا جو قابل گرفت عمل ہے صوبائی حکومت خاص کر گورنر بلوچستان کو انکو کسی صورت آسانی سے نہیں چھوڑنا چاہیے تھا۔ بیان میں اعلان کیا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کسی صورت خاموش نہیں بیٹھے گی اپنے آئینی حق مکمل تنخواہ اور پینشنرز کےلئے سخت سے سخت قدم اٹھائیگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں