پنجگور میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے گر گیا، گیس اور بجلی کے ذرائع غائب

پنجگور(نامہ نگار)پنجگور میں سردی کی شدت میں اضافہ درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے گر گیا۔گیس بجلی اور ایندھن کے ذرائع نہ ہونے سے شہریوں کے مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ شہریوں نے اپیل کی ہے کہ پنجگور میں ایل پی جی اسٹیشنوں کے فوائد شہریوں تک پہنچایا جائے شہری ابھی تک تربت کے راستے سے آنے والی ایرانی ایل پی جی تربت کے ریٹ پر خرید رہے تفصیلات کے مطابق پنجگور میں گیس کا بحران بدستور جاری ہے پنجگور میں اس وقت دو ایل پی جی اسٹیشنز کام کررہے ہیں مگر انکے ثمرات سے عام عوام محروم ہیں شہریوں نے ایل پی جی اسٹیشنیں کھلنے پر سکھ کا سانس لیا تھا کہ اب انہیں مقامی سطح پر کم ریٹ پر ایل پی جی ملے گا مگر شہریوں کے یہ ارمان بھی بے نتیجہ ثابت ہوگئے اب بھی شہری تربت والے گیس فی کلو 270 روپے کا لے رہے ہیں گیس کے بیوپاریوں کے مطابق ایل پی جی اسٹیشنز کھلنے کے بعد قیمیتوں میں کمی کی امید کیا جارہا تھا تاہم جس ریٹ پر وہ تربت سے گیس خرید رہے ہیں پنجگور میں بھی ایل پی جی اسی ریٹ پر ملتا ہے ٹرانسپورٹ کا خرچہ مزدوری بیوپاری کو ادا کرنا پڑھتا ہے اور بڑے سلنڈر پر ڈیڑھ کلو وزن میں کمی بھی انہیں برداشت کرنا پڑتا ہے پنجگور کے شہریوں نے ایل پی جی اسٹیشن مالکان سے اپیل کی کہ وہ قیمتوں میں توازن پیدا کرکے شہر میں سپلائی ممکن بنائیں تاکہ شہریوں کو قیمیتوں میں ریلیف مل سکے اور وہ مقامی سطح ایل پی جی کی سہولتوں سے استفادہ کرسکیں

اپنا تبصرہ بھیجیں