گوادر کے پروجیکٹ بیرو ی لوگوں کیلئے ہیں، مقامی آبادی پا ی میں ڈوبی ہوئی ہے، ماہ ر گ بلوچ
گوادر (آ لاء ) بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ ر گ بلوچ ے گوادر میں پریس کا فر س کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت گوادر میں سیلاب سے آ ے والی تباہی ہماری توقعات سے بہت زیادہ ہے اور یہ پورا علاقہ اس سے شدید متاثر ہے۔ آج ہم اس پریس کا فر س کے توسط سے گوادر میں سیلاب سے ہو ے والے قصا ات، سیلاب کے اسباب، لوگوں کے حالات ز دگی، ام ہاد میگا پروجیکٹ اور ترقی کی حقیقت، ریاست کی غفلت، عدم توجہ اور امدادی کاموں پر تفصیل سے ظر ڈالیں گے۔ ڈاکٹر ماہ ر گ بلوچ ے کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ٹیم گزشتہ پا چ د وں سے گوادر میں موجود ہے اور سیلابی صور تحال و زمی ی حقائق کا جائزہ لی ے کے لیے گوادر اولڈ سٹی، پشکا شہر، ڈگارو، پستاو، جیو ی شہر پلیری، پرائیں، توک، سرب د اور گردو واح میں سروے کررہی تھی۔ ہماری سروے رپورٹ کے مطابق اس وقت گوادر اولڈ سٹی کے ساتھ جیو ی، پشکا پلیری، سر ب در، ک ٹا ی، گ ز، کلا چ اور ا کے مضافاتی علاقے سیلاب سے شدید متاثر ہیں، ا تمام علاقوں میں سیلاب کے سبب معاشی قصا ات ے یہاں کے شہریوں کے کمر توڑ دی ہے اور ز دگی تباہی کے دہا ے پر کھڑی ہے۔ گوادر اولڈ سٹی سے لیکر جیو ی اور سرب د تک سی کڑوں گھر متاثر ہوئے ہیں، جس میں گھروں کے چھت اور دیوار گرچکے ہیں، جبکہ بالخصوص پلیری اس وقت سب سے زیادہ متاثر ہے جہاں تقریباً ہر گھر متاثر ہے۔ جیو ی، پشکا ، پلیری اور مضافاتی علاقوں میں ہزاروں لوگ بغیر چھت کے آسما تلے ز دگی گزار رہے ہیں۔ جبکہ اس پورے ریج کا ذرائع معاش ماہی گیری ہے۔ اس پورے ریج بالخصوص جیو ی اور سر ب در میں ماہی گیر کمیو ٹی کو معاشی حوالے سے بہت زیادہ قصا پہ چا ہے، ہم ے جیو ی میں درج وں چھوٹی چھوٹی کشتیوں کو سم در سے باہر ٹوٹ پھوٹ کی حالت میں دیکھا ہے، جبکہ سرب د میں ماہی گیروں کے مطابق ماہی گیری کے جال سیلابی پا ی میں بہہ چکے ہیں، یہاں کے ماہی گیر کمیو ٹی کے مطابق وہ سیلاب کے بعد معاشی حوالے سے صفر پر کھڑے ہیں، ا کے معاشی ذریعے مکمل تباہ ہوچکے ہیں۔ جبکہ پشکا اور اس کے گردو واح کے وہ علاقے ج کے معاشی ذرائع ایگریکلچر اور مال مویشیوں سے وابستہ ہیں وہ بھی شدید قصا ات کی زد میں ہیں۔ جبکہ تاحال متعدد مضافاتی علاقوں میں سیلابی پا ی گھروں اور گلیوں کے ا در موجود ہے، جس سے ا علاقوں میں خوراک اور پی ے کے پا ی کی شدید قلت ہے اور متعدد علاقوں میں پا ی کی قلت کے سبب لوگ سیلابی پا ی کو پی ے کے لیے استعمال کررہے ہیں جس سے متعدد بیماریوں کے ج م لی ے کے خدشات ہیں۔ جبکہ ا مضافاتی علاقوں میں ک ٹا ی سمیت دیگر ایسے بھی علاقے ہیں جہاں سیلابی پا ی کے سبب وہاں تک رسائی ممک ہیں ہورہی ہے۔ ا ہوں ے کہا کہ ہم ے گوادر اور اس کے مضافاتی علاقوں میں سروے میں سیلاب آ ے کے اسباب کو بھی زیر تحقیق میں رکھا جس سے ہم ے جو پرائمری معلومات حاصل کی ہیں، اس سے یہ تیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ گوادر میں آ ے والا سیلاب کسی بھی صورت قدرتی ہیں ہے بلکہ اقص اور غلط ا فرا اسٹریکچرل پالیسیوں کا تیجہ ہے اور اس کے ساتھ ریاستی اداروں جیسا کہ محکمہ موسمیات کی غفلت کا تیجہ ہے ج ہوں ے بارش کی پیشگی اطلاع یہاں کے شہریوں اور ماہی گیری کی ص عت سے وابستہ افراد کو ہیں دی تھی۔ ہم ے ا فرا اسٹریکچرل کی جو حالت اپ ی آ کھوں سے دیکھی اور یہاں کے شہریوں سے جو معلومات حاصل کی ہیں اس سے ہم صرف ات ا کہہ سکتے ہیں کہ ریاست کے لیے گوادر کے شہری ہیں صرف گوادر کا سم در اہمیت رکھتا ہے اور جو ترقی کے جھوٹے دعوے میڈیا میں کیے جاتے ہیں اس کا زمی ی حقائق سے ایک فیصد بھی تعلق ہیں ہے۔ ہمارے سروے ڈیٹا کے مطابق ریاست ے گوادر کے لیے جو ا فرا اسٹریکچرل پالیسی اپ ائی ہے گوادر کے شہریوں کے لیے ہیں ہے بلکہ وہ صرف گوادر پورٹ اور اس کے ام ہاد میگا پروجیکٹ سی پیک کے لیے ہے اور اسی ا فرا اسٹریکچرل پالیسی میں بیرو ی لوگوں کو سہولیات دی ے کے لیے مقامی لوگوں کے ز دگیوں کو تباہ کیا گیا ہے۔ گوادر پورٹ، ایئر پورٹ اور پی سی ہوٹل کو سہولیات دی ے کے لیے جا بوجھ کر ات ی او چی او چی سٹرکیں اور دیواریں تعمیر کی گئی ویڈ جس سے اولڈ سٹی گوادر سیلابی پا ی میں ڈوبا ہوا ہے۔ مقامی لوگ سیلابی پا ی میں بے یار و مددگار پڑے ہیں جبکہ باہر سے آئے لوگ پی سی ہوٹل سے بارش اور موسم کا مزہ لے رہے ہیں، ہم سمجھتے ہیں یہ قومی استحصال کی ایک شدید قسم ہے۔


