خضدار بنیادی سہولیات سے محروم، زمینداروں کو بجلی کی فراہمی یقینی بنائیں، عوامی حلقے

خضدار(بیورورپورٹ) خضدار بلوچستان کا دوسرا بڑا شہر ہے اورسیاسی اعتبار کے حوالے سے بلوچستان میں پہلی سیاسی جنگشن علاقہ ہے تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز جماعتوں کے قائدین کا تعلق بھی جھالاوان کے سرزمین خضدار سے ہیں بدقسمتی سے اتنے بڑے سیاسی قائدین کاعلاقہ یہاں کے لوگ دنیا کی جدید سہولتوں سے محرومی کا شکار ہے ہربار اسی دھرتی سے عوامی نمائندگان ایم این اے، ایم پی ایز اور سینیٹران منتخب ہوکر اسمبلیوں میں چلے جاتے ہیں لیکن خضدار کیلئے آواز لگانا انکے بس کی بات نہیں ہے اور یہاں کے ووٹروں کو بھول جاتے ہیں خضدار شہر ایک لاوارث شہر بن چکا ہے ان میں سہولیات کا میسر ہونا دور کی بات ہے عوامی نمائندگان کا علاقہ کی طرف رخ کرنا بھی کسی نعمت سے کم نہیں ہوگا خضدار کے علاقہ سردعلاقوں میں شمار ہوتا ہے اور گرمی میں کم ازکم 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ گرم ہوتا ہے خضدار کو گیس کی سہولیات سے محروم کردیا ہے عوام سردیوں میں سخت عذاب میں زندگی گزار دیتے ہیں گرمی میں ناقص بجلی کی فراہمی علاقہ کو کربلا کا منظر پیش کردیتی ہے ان دنوں خضدار کو دادو ٹرانسمشن لائن سے بجلی کی فراہمی بند کردی ہے اور کوئٹہ سے ناقص کم وولٹیج والی بجلی مہیا کی جارہی ہے جس کی وجہ سے زمینداروں کو کافی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتاہے خضدار کے عوامی وسیاسی حلقوں نے اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ خضدار کو بجلی کی ترسیل دادوٹرانسمشن لائن سے شروع کرکے زمینداروں اور عوام کو بہترین بجلی کی فراہمی یقینی بنائے اور دوسری جانب گیس پلانٹ کی افتتاح کرکے عوام کو اس شدید پریشانی سے نجات دلائی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں