بلوچستان میں تین ماہ بعد سرکاری اسکول کھل گئے، درسی کتب اور کاپیاں فراہم نہ کی جاسکیں
کوئٹہ(یو این اے )حکومت کی جانب سے تین ماہ کی چھٹیوں کے بعد سرکاری گرلز اور بوائز اسکولوں کو مارچ کے دوسرے ہفتہ میں کھول دیا گیا اسکول گیس اور بجلی کی سہولت سے بھی محروم ہیں ،ابھی تک بہت سے سرکاری اسکولوں میں کتابیں اور کاپیاں فراہم نہیں کی گئی ہیں ان میں گورنمنٹ گلز پرائمری سکول گلی نمبر 11پشتون آباد کوئٹہ اس علاقے میں اکثریت غریبوں کی ہے سکول میں بچیوں کیلئے کاپیاں کتابیں سٹیشنری کے اشد ضرورت ہے سیکرٹری تعلیم اور ڈائریکٹر ایجوکیشن پشتون آباد گلز پرائمری سکول گلی نمبر 11پشتون آباد میں کتابوں کی تقسیم کو یقینی بنائے کیونکہ حکومت بلوچستان کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ سرکاری سکولوں میں کتابیں اور کاپیاں طلبہ و طالبات کو فراہم کی جائے گی اس لیے نہ صرف گلز سکول پشتون آباد بلکہ کوئٹہ کے بہت سے سکول ایسے ہیں جہاں غریب بچوں اور بچیوں کو کتابوں کی فراہمی کو یقینی بنائی جائے تاکہ وہ اپنی تعلیمی سال کا اغاز بہتر طور پر کرسکیں کیونکہ طلبہ و طالبات غربت کی وجہ سے کتابیں کاپیاں اور سٹیشنری نہیں خرید سکتے واضح رہے حالیہ الیکشن میں گلز پرائمر سکول گلی نمبر 11پشتون آباد سکول ہذا کے کھڑکیاں اور دورازے بھی تھوڑ دی گئی تھی ان کی مرمت بھی کی جائے تاکہ موسمی حالات سے طالبات محفوظ رہ سکیں۔


