رجسٹرار کو سپریم کورٹ واقعہ کی تحقیقات کرنی چاہئے تھی‘علی احمد کرد

کوئٹہ (پ ر)علی احمد کرد نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہاہے کہ یہ کتنی عجیب اور مضائقہ خیز بات ہے کہ عین اسی وقت جب سپریم کورٹ کی عمارت میں سات ججز پرمشتمل لارجربینچ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی عدالتی کاموں میں مداخلت اور دھمکی آمیز رویئے کے ذریعے من پسند فیصلے لکھوانے کے انتہائی حساس معاملے میں عدالتی کارروائی ہورہی ہو اور اس بڑی عدالت کی اپنے ہی دروازے پر اسی ایجنسی کے لوگ کھڑے ہیں اور محمود خان اچکزئی جیسے نامور سیاسی شخصیت کو نہ صرف کمرہ عدالت میں اندر جانے سے روک دیا بلکہ ان کے ساتھ نہ شائستہ اور نہ مناسب جملے اور گفتگو کارویہ اختیار کیا لازمی طورپر ہوناتو یہ چاہئے تھا کہ عدالت کے تقدس اور احترام کے پیش نظر چیف جسٹس کے حکم پر سب سے پہلے رجسٹرار کو یہ تحقیقات اور کارروانی کرانی چاہئے تھی کہ ایجنسی کے لوگ عدالت کی عمات میں داخل کیسے ہوئے۔اس واقعے کی انتہائی شدید مذمت کرتاہووں اور براہ راست چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے یہ مطالبہ کرتاہوں کہ اس معاملے کی پوری تحقیق اور ذمہ دار لوگوں کے خلاف قانونی کارروانی ہونی چاہئے اور سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو محمود خان اچکزئی جیسے باعزت شہری سے اعلانیہ طورپر معافی مانگنی چاہئے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں