بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں کیخلاف آواز اٹھانیوالی خواتین کو ہراساں کیا جارہا ہے، ڈاکٹر ماہ رنگ

لاہور (انتخاب نیوز) عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلوچ رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا ہے کہ ہماری تحریک کو جان بوجھ کر پنجاب مخالف بنانے کی سازش کی گئی تاکہ ہماری آواز کو متنازعہ بناکر مظلوم لوگوں کی ہم سے ہمدردیاں دور کی جاسکیں، ہم نے ہمیشہ غلط کو غلط کہا، بلوچستان میں جبر، تشدد اور انسانی حقوق کی بدتر پامالیاں اگرچہ ایک ادارہ کررہا لیکن اسے عدلیہ اور پارلیمنٹ کی حمایت رہی ہے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف آواز اٹھانے والی عورتوں کو ہراساں کیا جارہا ہے، ڈیتھ اسکواڈ کے ذریعے ایسے فیملی کو دھمکی دی جاتی ہیں یا ان کی عورتوں کو لاپتہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جن کے گھروں میں سے مرد عسکری مزاحمت کا حصہ ہیں۔ بلوچ عورتیں جس کرب اور اذیت میں گزر رہی ہیں ان کا لاہور یا پاکستان کے کسی دوسرے حصہ میں بیٹھ کر تصور تک کرنا محال ہے۔ ہماری ماﺅں کے بچے ایسی حالت میں لوٹائے جاتے جب تشدد کے سبب ان کے چہرے اس قدر مسخ ہوچکے ہوں کہ انہیں جننے والی مائیں مشکل سے پہچان سکتی ہیں۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ دوسری جنگ عظیم سے کالونیل دور تک عورتوں کا استحصال کیا گیا اور آج بھی بلوچستان میں عورتوں کو جبری گمشدگیوں کے سبب اجتماعی اذیت کا نشانہ بنایا جارہا ہے، بلوچستان دو دہائیوں سے جبر کی المناکیوں کا شکار ہے اس کے وب سے زیادہ وکٹم بلوچ عورتیں ہیں، دہائیوں سے اپنے کھوئے ہوئے پیاروں کے انتظار میں بلوچ عورتوں کو ذہنی اور جسمانی طور پر اجتماعی ازیت کا نشانہ بنایا گیا، انسانی حقوق کے اداروں کی مسلسل خاموشی سے بلوچستان جبر و اذیت کا سلسلہ روز المناک ہوتا جارہا ہے۔ تشدد، جبر، اذیت اور لاپتہ افراد کی صورت میں آج کا بلوچستان نسل کشی کے بدترین دور سے گزر رہی ہے اس میں عدلیہ اور پارلیمنٹ خاموش رہ کر شریک جرم بنے ہوئے ہیں، دہائیوں کے ذہنی و جسمانی تشدد سے ہمارے لوگ نارمل زندگی جینا بھول گئے ہیں۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں جبر کے خلاف آواز اٹھانے پر ٹیچرز، صحافیوں ہر روشن دماغ کو نشانہ بنایا گیا، سونا اگلنے والی ہماری زمین کا ہر حصہ لاشیں اگل رہی ہے جب ہم نے اس کے خلاف پرامن تحریک شروع کی تو اسے پنجاب مخالف تحریک ثابت کرنے کی بھونڈی کوشش کی گئی گئی تاکہ مظلوموں کے ساتھ ہمدردی کے جزبات ختم کیے جائیں اور بلوچوں کو اکیلا بناکر ان کا استحصال آسان بنایا جائے، حالانکہ ہم نے ہمیشہ غلط کو غلط کہا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگی قہر بن کر نازل ہوا اس سے ہمارا پورا سماج متاثر ہے، ہماری عورتوں کو ڈیتھ اسکواڈز کے ذریعے ہراساں کیا جارہا ہے، عسکری مزاحمت میں شامل گھرانے کی عورتوں کو ہراساں کرنے کے ساتھ کمسن بچیوں کو ڈیتھ اسکواڈز کے کارندوں سے زبردستی شادی پر مجبور کیا گیا جس سے خودکشی کے کیسز بھی ریکارڈ ہوئے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے مسئلے کو اس وقت تک حل کی جانب لے جانا ممکن نہیں جب تک جبری گمشدگی کو جرم قرار نہیں دیا جاتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں