ٓٓایس او پیز کے تحت ہوٹل، ریسٹورنٹس اورشادی ہالز کھولنے کی اجازت دی جائے،رحیم کاکڑ
کوئٹہ؛ مرکزی مرکزی انجمن تاجران بلوچستان نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان و چیف سیکرٹری سمیت اعلیٰ سے مطالبہ ہے کہ ایس او پیز کے تحت ہوٹل، ریسٹورنٹس، شادی ہالز اور سنوکر کلب کھولنے کی اجازت دی جائے، مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کی کوششوں اور اعلیٰ حکام سے مذاکرات کے بعدشاپنگ مالز، مارکیٹس، دکانوں اور سٹورز کی ٹائمنگ صبح9بجے سے شام 7بجے کی بعد رات 10بجے کردی گئی جس پر وزیراعلیٰ بلوچستان، چیف سیکرٹری و دیگر متعلقہ حکام کے شکرگزار ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکزی انجمن تاجرانب بلوچستان کے مرکزی صدر عبدالرحیم کاکڑ، سینئر نائب حضرت علی اچکزئی، صدر آل بلوچستان ہوٹلز اینڈ ریسٹورنٹس ایسوایشن سید علی اچکزئی و دیگر نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار مہینہ سے لاک ڈاؤن کے باعث بلوچستان کی تاجر برادری بری طرح متاثر ہوئی ہے اور کاروباری و تجارتی سرگرمیاں خاص کر ہوٹل، ریسٹورنٹس، شادی ہال، سنوکر کلبز بند ہونے سے مالی مشکلات سے تاجر مالی مشکلات سے دوچار ہوئے جس کے بعد مرکزی انجمن تاجران نے احتجاجی مظاہرے اور پریس کانفرنسز کرنے کے علاوہ اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں،سمارٹ لاک ڈاؤن کے لگنے کے بعد شاپنگ مالز، مارکیٹس، دکانوں اور سٹورز کی ٹائمنگ صبح9بجے سے شام 7بجے کھولنے کی اجازت ملی تاہم عید الضحیٰ کے سیزن کے موقع پر ہم نے ٹائمنگ کو رات 10بجے تک بڑھانے کا مطالبہ کیا اور اس سلسلے میں گزشتہ روز ہم نے چیف سیکرٹری فضیل اصغر سے ملاقات کی جس کا آج نوٹیفکیشن جاری ہوا جس کے تحت عیدالضحیٰ کے موقع پر شاپنگ مالز، مارکیٹس، دکانوں اور سٹورز کی ٹائمنگ صبح9بجے سے شام 7بجے کی بعد رات 10بجے کردی گئی جس پر مرکزی انجمن تاجران وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال، چیف سیکرٹری فضیل اصغر، وزیر داخلہ، سینیٹر منظور کاکڑ سمیت کمشنر و ڈپٹی کمشنر کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں 2دن کے دوران شادی ہالز، ہوٹل، ریسٹورنٹس اور سنوکر کلب کھولنے بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے ہمیں امید ہے کہ جلد ہی اس کا بھی نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔ ملک بھر میں جہاز، ٹرین، ٹرانسپورٹ ایس او پیز کے تحت چل رہے ہیں تاہم ہوٹل اور ریسٹورنٹس پارسل کے تحت نہیں چل سکتے کیونکہ بلڈنگ کرایہ، لیبر کی تنخواہیں، گیس بجلی بلز ادا کرنا پارسل سے ہوٹل چلانے سے ممکن نہیں ہے اس کے علاوہ مکمل لاک ڈاؤن کے دوران بھی بلز اور بقایاجات کے ساتھ بھیجوائے گئے ہیں شادی ہالز گزشتہ 4مہینے سے بند ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مرکزی مرکزی انجمن تاجران بلوچستان نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان و چیف سیکرٹری سمیت اعلیٰ سے مطالبہ ہے کہ ایس او پیز کے تحت ہوٹل، ریسٹورنٹس، شادی ہالز اور سنوکر کلب کھولنے کی اجازت دی جائے۔


