حب ڈیم سے ڈی ایچ اے کراچی کےلئے پائپ لائن منصوبہ التوا کا شکار
حب( رپورٹ/عزیز لاسی)حکومت بلوچستان نے حب ڈیم سے کراچی کو یومیہ 100ایم جی ڈی اضافی پانی لینے کو ڈیم میں ذخیرہ آب کی گنجائش بڑھانے اور بلوچستان کے پانی کے شیئر میں اضافے سے مشروط کردیا ۔ دوسری جانب ڈیم سے حب کو پانی فراہم کرنے والی لسبیلہ کینال کی ری ماڈلنگ کیلئے ساڑھے 19ارب روپے کے منصوبے پر وفاقی محکمہ پلاننگ اینڈ کمیشن نے کام شروع کر دیا۔ وفاقی PSDP،2024-25 میں منصوبے کو شامل کرنے کا امکان اس حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ پیپلزپارٹی کی سابقہ حکومت کے دور میں وفاقی وزیر سید خورشید شاہ نے حب ڈیم سے ڈی ایچ اے کراچی کے لئے پائپ لائن کے ذریعے یومیہ50ایم جی ڈی اضافی پانی فراہمی کا منصوبہ تیار کیا تھا اور اس حوالے سے وزرات واٹر اینڈ پاور نے حکومت بلوچستان سے اجازت بھی طلب کی تھی تاہم مذکورہ منصوبہ ہنوز التواءکا شکار ہے جبکہ حال ہی میں میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے حب ڈیم سے کراچی کیلئے 100ایم جی ڈی اضافہ پانی حب کینال سے 12ارب روپے کے منصوبے کی داغ بیل شروع کرنے کا دعویٰ کیا ہے اس ضمن میں ذرائع بتاتے ہیں کہ حکومت بلوچستان نے حب ڈیم سے کراچی کو اضافی پانی کی فراہمی کو حب ڈیم میں ذخیرہ آب کی گنجائش بڑھانے کیلئے ڈیم کی ڈریجنگ اور ڈیم دیواروں کو مزید بلند کرنے سے مشروط کرتے ہوئے تجویز دی ہے واضح رہے کہ حب ڈیم تقریباً اپنی مدت مکمل کرچکا ہے اور ڈیم کی کافی عرصہ سے صفائی کا کام نہ ہونے کی وجہ سے ڈیم سلٹ اپ ہو چکا ہے جسکی وجہ سے اب ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش بھی کم ہوتی جارہی ہے جبکہ اِدھر حب شہر کی تیزی سے بڑھتی ہوئی انسانی آبادی سمیت نئے مجوزہ انڈسٹریز زونز کے قیام اور کاشتکاری کیلئے پانی کی زیادہ ضرورت ہے اسی طرح سے کراچی کو بھی پانی کی ضرورت بڑھ رہی ہے اسوقت حب ڈیم سے کراچی اور حب کو جو پانی کا حصہ مل رہا ہے اسکے مطابق لسبیلہ کینال سے حب کو 37فیصد اور کراچی حب کینال سے 63فیصد ہے اِدھر حب کو پانی فراہم کرنے والی کینال کی حالت انتہائی مخدوش ہو چکی ہے اور پانی کی چوری بھی زیادہ ہے اس بارے میں رابطہ کرنے پر ایکسین ایری گیشن لسبیلہ کینال عبدالجبار زہری کا کہنا تھا کہ لسبیلہ کینال کی ری ماڈلنگ کیلئے عرصہ دراز سے خط وکتابت کا سلسلہ جاری تھا تاہم حالیہ دنوں صوبائی مشیر میر علی حسن زہری کی توسط سے لسبیلہ کینال کی ری ماڈلنگ کا ساڑھے 9ارب روپے کا منصوبہ وفاقی محکمہ پلاننگ اینڈ کمیشن کو بھیجا گیا ہے جہاں پر منصوبے کی فزبیلٹی اور کنسلٹینسی پر کام کا آغاز کردیا گیا ہے اور امکان ہے کہ اس منصوبے کو وفاقی سالانہ بجٹ 2024-25ءمیں منظوری کیلئے پیش کیا جائے ۔ قبل ازیں حب ڈیم سے لسبیلہ کینال پر بند مراد کے مقام پر حب ندی پر قائم اوورہیڈپل (ایکوڈک ) کی خستہ حالی کا نوٹس لیتے ہوئے سابق اسپیکر بلوچستان اسمبلی وایم این اے محمد اسلم بھوتانی نے خستہ حال اور بند مراد پل کے ساتھ ہی نئے اوور بیڈ پل تعمیر کرایا تھا ۔ مزید برآں حب ڈیم سے کراچی کو اضافی پانی کی فراہمی کے حوالے سے ڈیم میں ذخیرہ آب کی گنجائش بڑھانے کی شرط کے علاوہ حکومت بلوچستان نے وفاقی حکومت کو لکھے گئے خط میں اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ کراچی کو پانی کی فراہمی کے حوالے سے K4منصوبے سمیت دیگر ذرائع دستیاب ہیں جبکہ حب انڈسٹریز کا شتکاری اور حب وگڈانی کے شہریوں سرکاری دفاتر گڈانی جیل اور دیگر کمرشل استعمال کیلئے حب ڈیم کے سوا اور کوئی دوسرا پانی کا ذریعہ دستیاب نہیں ہے لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ حب ڈیم میں ذخیرہ آب کے توسیع منصوبے سمیت ڈیم سے حب کے پانی کے حصہ میں بھی اضافہ کیا جائے۔


