کرغزستان میں لڑکیوں سے زیادتی، آئی ایم ایف کو خط لکھنے والی جماعت نے والدین کو ڈرایا، عطا تارڑ
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)اسحق ڈار کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ پاکستانی طلبہ اس حملے کا ہدف نہیں تھے، یہ عرب اور وہاں کے بچوں کا معاملہ تھا جس کی زد میں ہمارے بچے اگئے، ہمارے کرغزستان سے اچھے تعلقات ہیں، اس واقع کے فورا بعد وزیر اعظم کا دفتر اور وزارت خارجہ فوری طور پر حرکت میں اگئے، میں سفارت کار کو بھی سلام پیش کرتا ہوں کہ وہ ایسے حالات میں باہر نکلے اور وہاں بچوں کی تیمارداری کی۔ان کا کہنا تھا کہ وہاں حالات معمول پر واپس اگئے ہیں، کرغزستان کے کچھ طلبہ بھی بچوں کے پاس خیر سگالی کا پیغام لے کر پہنچے ہیں، افسوسناک بات یہ ہے کہ وزیر اعظم صاحب نے اس پر کام کیا، میں نے بچوں سے رابطہ کیا مگر ایک سیاسی جماعت جو کبھی ائی ایم ایف کو خط لکھتی ہے تو کبھی ملک میں انتشار پھیلانا چاہتی ہے ان کی طرف سے مخصوص پروپیگنڈا کیا گیا، والدین کو بتایا گیا کہ ان کی بچیوں کے ساتھ ریپ کیا گیا ہے، والدین کو بتایا گیا کہ ان کے بچے فوت ہوگئے ہیں، تو وہ اللہ سے ڈریں، ایسے حالات کسی پر بھی اسکتے ہیں، اس صورتحال کو سیاست پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال کرنا افسوسناک ہے، اس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزیر اعظم کی طرف سے کل صبح 10 بجے بیان جاری ہوا کہ کوئی طلبہ ہلاک نہیں ہوا، 6 طلبہ ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں تو حکومت نے بر وقت رد عمل دیا، حکومت لمحہ با لمحہ اس کو دیکھ رہی ہے، محسن نقوی صاحب خود ایئرپورٹ گئے مگر پینک پھیلایا گیا کہ ہلاکتیں ہوئی، ریپ کیا گیا، ہر پاکستانی کی حفاظت حکومت کے ذمے ہے، حکومت مکمل طور پر اس معاملے کو ڈیل کر رہی ہے۔اس موقع پر اسحق ڈار نے کہا کہ میں نے ریپ کی بات خود نہیں کی، کرغزستان کے حکام نے کہا یہ خبر غلط چلائی گئی، وہاں کے لوگ تو خود پاکستانی بچوں سے جا کر مل رہے ہیں، بد قسمتی ہے کہ ہم سوشل میڈیا کے ذریعے ایسے جھوٹ پھیلاتے ہیں جس سے نفرت پیدا ہوتی ہے۔


