ہزارہ ٹاﺅن میں پانی کا مسئلہ گھمبیر ہے، پرائیویٹ مافیاز سے نجات دلائیں، کاشف حیدری
کوئٹہ (این این آئی) مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے رکن ایگزیکٹو کمیٹی اور بی این پی کے ضلعی رہنما کاشف حیدری نے کہا ہے کہ موسم گرما کا آغاز ہوتے ہی پانی کی قلت کا مسئلہ گھمبیر، ہزارہ ٹاون میں واسا مینجمنٹ کے بجائے پرائیوٹ مافیا مسلط، ماہانہ 2500 بل لینے کے باوجود پانی ناپید، جب تک ہزارہ ٹاون کو پرائیویٹ مافیا سے نجات دلاکر واسا کے حوالے نہیں کیا جاتا، ہزارہ ٹاون کے پانی کا مسئلہ حل نہیں ہوگا، بلوچستان ہائی کورٹ اور دیگر اعلی حکام ہزارہ ٹاون کے مکینوں پر پرائیویٹ مافیا کے مظالم کا نوٹس لیں، یہ بات انہوں نے اپنے دفتر میں آئے ہزارہ ٹاو¿ن کے رہائشیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، انہوں نے کہا کہ پانی کے قلت بارے اس سے قبل بھی متعدد بار احتجاج ریکارڈ کروا چکے مگر انتظامیہ سمیت حکومت بھی جھوٹے وعدوں کے علاوہ کچھ نہ کرسکے، اس موقع پر ہزارہ ٹاون کے رہائشیوں نے بتایا کہ پرائیویٹ ٹیوب ویل مافیا نے پانی کی ماہانہ بلوں کو بڑھانے کا عندیہ دیا ہے، انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ مافیا کی جانب سے 2500 بل لینے کے باوجود مہینے میں 2 – 3 بار پانی دیا جارہا ہے، جس سے ایک متوسط گھر کا گزارہ ناممکن سی بات ہے، اس کے اوپر پرائیویٹ مافیا کی جانب سے بل بڑھانے کا کہا جا رہا ہے جو کہ ظلم کی انتہاءہے، کاشف حیدری نے کہا ہے کہ اس قبل بھی بارہا کہا کہ جب تک ہزارہ ٹاون کو پرائیویٹ مافیا سے نجات دلاکر واسا کے حوالے نہیں کیا جاتا ۔ ہزارہ ٹاون کے پانی کا مسئلہ حل نہیں ہوگا، پرائیویٹ مافیا بغیر کسی قانون کے من چاہا بل عوام سے وصول کرتے ہے جبکہ پانی بھی فراہم نہیں کیا جاتا، سابقہ حکومتوں نے بھی ہزارہ ٹاون میں پانی کی قلت کے مسئلے کو حل کرنے سے گریزاں رہے، انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ مافیا اور ٹینکر مافیا کے گٹھ جوڑ سے ہزارہ ٹاون میں پانی کا مسئلہ دن بدن گھمبیر ہوتا جارہا ہے، جبکہ حلقے کے منتخب عوامی نمائندے سمیت حکومت بھی عوام کے مسائل سننے کیلئے تیار نہیں ہے، انہوں نے بلوچستان ہائی کورٹ اور دیگر اعلی حکام سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہزارہ ٹاون کو پرائیویٹ مافیا کے چنگل سے نجات دلا کر واسا کے حوالے کیا جائے۔


