ایم ایس شیخ زید اسپتال کوئٹہ کی صحافی سے تلخ کلامی اور ہاتھاپائی

کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر)میڈیکل سپرنٹنڈنٹ شیخ زید اسپتال ڈاکٹرذوالفقاربلوچ کی صحافی کیساتھ تلخ کلامی، ہاتھاپائی کرنے پراترآئے، ایم آرآئی مشین غیرفعال ہونے کی خبررپورٹ کرنے کیلئے جانے والے صحافی سے کیمرہ چھیننے کی بھی کوشش کی گئی جوباعث تشویش ہے۔تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی کے کیمرہ میں حسنین بلوچ پیرکوشیخ زیدہسپتال گئے جہاں پرانہوں نے غیرفعال ایم آرآئی مشین کی فوٹیج بنائیں اس معاملے میں ہسپتال انتظامیہ کاموقف جاننے کیلئے میڈیکل اسپرنٹنڈنٹ کے دفترگئے جہاں پرکافی انتظارکرنے کے بعد ایم ایس نے انہیں وقت نہیں دیا، حسنین نے بتایاکہ ایم آرآئی مشین کی خرابی کے حوالے سے گزشتہ ہفتے بھی وہ ایم ایس کاموقف جاننے کیلئے گئے مگرکسی نے انہوں کوئی بات نہیں کی، ایک ہفتے بعددوبارہ ہسپتال گئے گزشتہ دن ہسپتال کے وارڈمیں فوٹیج بنائے مگراس مرتبہ ہمارے ساتھ وہی رویہ رکھاگیااورایم ایس نے ہمارے ساتھ نہ صرف الجھنے کی کوشش کی بلکہ تلخ کلامی کرکے ہاتھاپائی کرنے پراترآئے تاہم حسنین وہاں سے روانہ ہوگئے۔ایم ایس کی تلخ کلامی کے دوران ہسپتال کاعملہ آیااورانہیں اپنے ساتھ لے گئے جہاں پرمیڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے پی ایس اوراسٹاف نے بتایاکہ”صاحب کابلڈپریشرہائی ہوگیا ہے “ اس لئے اس طرح برتاؤکررہے ہیں۔شیخ زیدہسپتال کوئٹہ مستونگ روڈپرواقع بڑاسرکاری ہسپتال ہے جہاں پرکوئٹہ سمیت اندرون بلوچستان نوشکی، خاران، پنجپائی، کانک، مستونگ ، قلات اوردیگرعلاقوں سے لوگ مفت علاج معالجہ کی غرض سے آتے ہیں۔ صوبہ بھرمیں صحت کے شعبے کی زبوں حالی کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے حکومت اورمتعلقہ حکام کے تمام دعووں کے باوجودعملی اقدامات اٹھانے کی بجائے ہسپتال انتظامیہ صحافیوں کیساتھ الجھنے میں کوئی دیرنہیں کرتے، اس طرح صحافتی ذمہ داریوں کی ادائیگی کی راہ میں رکاوٹیں حائل کرنے بجائے ہسپتالوںمیں غیرفعال مشینری کوفعال بناکرادویات کی بروقت فراہمی اورعملے کی حاضری کویقینی بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیںتاکہ شہریوں کوپرائیویٹ ہسپتالوں سے چھٹکارہ مل سکے۔واضح رہے کہ یہ پہلاواقعہ نہیں بلکہ اس سے قبل بھی شیخ زیدہسپتال میں خالی آسامیوں پربھرتیوں کے معاملے میں مبینہ کرپشن اورمن پسندافرادکی تعیناتی کی خبررپورٹ کرنے کیلئے جانے والے صحافی مرتضیٰ زہری کیساتھ بھی ایم ایس نے ہتھک آمیزرویہ اختیارکرکے انہیں ذودکوب کانشانہ بنایاتھاجس کے بعدکوئٹہ پریس کلب اوربلوچستان یونین آف جرنلسٹس نے مل کر معاملہ کوختم کروایا۔ہسپتال کے ترجمان نے اس معاملے سے بے خبرہوکر تردیدکی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں