سی ٹی ڈی کراچی کے دفتر سے شہری بازیاب، اہلکاروں کیخلاف مقدمہ
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)سی ٹی ڈی کے دفتر سے شہری بازیاب ہونے پر ماموں کی مدعیت میں افسران اور اہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج کر لیا گیا، تفصیلات کے مطابق مقدمہ اغوا برائے تاوان کی دفعہ کے تحت درج کیا گیا ہے، اس میں بتایا گیا کہ میں رینجرز میں بحیثیت لانس نائیک ڈیوٹی کرتا ہوں، 19 مئی کو میرا بھانجا محمد عالیان عراق سے کراچی پہنچا تھا، شاہراہ فیصل پر میرے بھانجے کو سرکاری پولیس موبائل نے روکا جس کے ساتھ ایک ڈبل کیبن بھی موجود تھی اور وہ اسے ٹیکسی سے اتار کر اپنے ہمراہ لے گئے، دو روز بعد مجھے موبائل فون کال موصول ہوئی، کالر نے اپنا تعلق سی ٹی ڈی سے بتایا اور مجھ سے کہا کہ اگر تم بھانجے کی رہائی چاہتے ہو تو 15 لاکھ روپے تاوان ادا کیا، انہوں نے مزید کہا کہ سی ٹی ڈی اہلکار سے ایک لاکھ روپے میں معاملات طے ہوا اور مجھے رقم لے کر سول لائن سی ٹی ڈی تھانہ پہنچنے کا کہا گیا میں شام 4 بجے وہاں پہنچا جہاں پر موجود ایک شخص نے کہا کہ بھانجے کے لیے آئے ہو تو رقم مجھے دے دو، میں نے کہا کہ پہلے میرے بھانجے کو لاو¿ پھر رقم دوں گا، تاہم رقم دینے کے بعد ہی میرے بھانجے کو مجھے دیا گیا، اسی کے ساتھ رینجرز اہلکار سی ٹی ڈی کے دفتر میں داخل ہو گئے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز رینجرز نے سی ٹی ڈی دفتر پر چھاپا مارتے ہوئے مغوی شہری عالیان کو بازیاب کروایا تھا۔


