قبائل کی رضا مندی کے بغیر اراضی پر سرکاری قبضہ ناقابل قبول ہے، بی این پی نوشکی
نوشکی (پ ر)بلوچستان نیشنل پارٹی نوشکی کے ضلعی سیکریٹریٹ سے جاری ہونے والے بیان میں احمدوال پر احمد زئی قبائل کی سرکار کی جانب سے قبضہ گیری پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ۔ بیان میں کہا گیا ھے کہ نوشکی کی سرزمین بلوچستان بھر کی طرح وہاں پر بسنے والے قبائل کی جدی پشتی ملکیت ہے جن کی وہاں کے قبائل نے ہزاروں سالوں سے دفاع کرتے آئے ہیں اور اسی اراضی سے اپنی نان نفقہ پیدا کرتے چلے آرہے ہیں اور سیٹلمنٹ کے علاو¿ہ بلا پیمودہ اراضی کو خود پاکستان کی جرگہ، شرعی اور عدالتی قوانین بھی اسی قبیلے کی ملکیت ھونے کی ثبوت دے چکی ھے۔ بلوچستان میں جب بھی سرکار کو اپنے کسی مخصوص مقصد کے لیئے کہیں اراضی کی ضرورت پڑتی ھے تو سرکار وہاں کے قبائل کو اعتماد میں لیکر اور اس اراضی کے بدلے وہاں کے قبائل کی ڈیمانڈ کے مطابق ان قبائل کو مراعات دینے کے بعد تحریری معائدہ کر کے اس اراضی کے ٹکڑے کو اپنی مقصد کے لیئے استعمال میں لا سکتا ھے، مگر قبائل کی منشاءو مرضی، مراعات و اعتماد کے بغیر ایک انچ اراضی کو بھی قبضہ کرنے کی کسی کو اجازت نہیں، خواہ وہ اراضی کتنے ہی بڑے اور اہم مقصد کے لیئے کیوں نہ استعمال میں لائی جائے قبضہ گیری کے زمرے میں آتا ھے۔ اور بلوچستان نیشنل پارٹی قبضہ گیریت کے ہر شکل کی مخالفت کرتی ہے اور کرتی رہے گی۔ بیان میں مذکورہ ادارے کو خبردار کیا گیا کہ وہ احمدوال کے جس اراضی کے ٹکڑے پر قبضے کی نیت رکھتی ھے وہ ہمارے قبائل احمد زئی کی جدی پشتی ملکیت ھے اور احمد زئی قبائل سینکڑوں سالوں سے اس اراضی کی حفاظت کرتی رہی ھے۔ احمد زئی قبائل کے خاران روڈ احمدوال پر واقع اس اراضی کی سرکاری قبضہ کرنے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ اگر اس قبضے کو قبائل کی حق میں واگزار نہیں کی گئی تو بلوچستان نیشنل پارٹی بلوچستان کے سرزمین کے ایک ایک انچ اراضی کی دفاع کے لیے اپنے عوام اور قبائل کے ساتھ ملکر قبضہ گیریت کے خلاف تحریک چلائے گی۔


