بلوچستان میں قائم جگہ جگہ چیک پوسٹوں کا خاتمہ کیا جائے، تفتان بس ٹرانسپورٹ
کوئٹہ (پ ر) چیئرمین تفتان بس ٹرانسپورٹ یونین میر محمود خان بادینی، بلوچستان بس فیڈریشن کے صدر سعید احمد لہڑی نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ہم آل ٹرانسپورٹ یونین اتحاد مکران بلوچستان ٹو کراچی کے ٹرانسپورٹرز کے جائز مطالبات کی حمایت کرتے ہیں، مطالبات تسلیم کرکے ان پر عملدرآمد کرنا حکومت بلوچستان، وزارت داخلہ، ایف بی آر حکام کی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح ہمارے تفتان روڈ پر درجنوں چیک پوسٹیں اب بھی برقرار ہیں جبکہ صوبائی حکومت کی جانب سے ہمارے مطالبات پر یقین دہانیوں کے باوجود بھی متعلقہ حکام کوئی عملدرآمد نہیں کررہے، لہٰذا پھر ہمارا بیانیہ بھی برقرار ہے کہ ایک روٹ کی ایک گاڑی کو دورانیہ سفر میں ایک بار چیک کرنا کافی ہے، نہ کہ ایک ہی گاڑی کو اس کے دورانیہ سفر میں درجنوں جگہ اینٹی اسمگلنگ کے نام پر روکنا، تنگ کرنا، یہ ظلم ختم ہونا چاہیے، یہی حال بلوچستان بھر کی نیشنل ہائی ویز کا ہے جبکہ سندھ پنجاب وغیرہ کی نیشنل ہائی ویز پر کوئی ادارہ اینٹی اسمگلنگ کے نام پر ٹرانسپورٹ کو بار بار نہیں روکتے تو پھر بلوچستان کی نیشنل ہائی ویز پر یہ ظلم کیوں؟ قانون سب کیلئے برابر ہونا چاہیے، کیونکہ گزشتہ عرصہ سے بلوچستان کے ٹرانسپورٹرز ژوب سے گوادر تک رکنی سے تفتان تک اپنے اپنے جائز مطالبات کے حق میں جمہوری انداز میں پرامن احتجاج پر ہیں، حکمران اگر مطالبات پر عملدرآمد کرانے سے متعلق بے بس ہیں تو یہ ان کیلئے سوالیہ نشان ہے، ہم توصرف افسوس ہی کرسکتے ہیں، لہٰذا عوامی نمائندگان خواہ ان کا تعلق حکمران جماعتوں سے ہو یا اپوزیشن جماعتوں سے وہ ٹرانسپورٹرز کے مسائل و مطالبات کے حق میں خاموش رہنے کے بجائے اپنے اپنے فورم پر آواز اٹھائیں بلکہ مطالبات کو تسلیم کروا کر نوٹیفکیشن جاری کرا کے ان پر عملدرآمد بھی کرائیں تاکہ وہ ثابت کریں کہ واقعی وہ عوام سے آئے ہیں، اگر موجودہ حکومت مسائل کو سنجیدگی سے حل کرنا چاہتی ہے تو سی ایم اور گورنر بلوچستان کی چیئرمین شپ میں وزارت داخلہ ایف بی آر سمیت تمام اداروں کے سربراہان اور ٹرانسپورٹ نمائندہ گان کا مشترکہ اعلیٰ سطحی اجلاس بلا کر مسئلے کوہمیشہ کے لیے حل کرائیں۔


