سنی اتحاد کونسل نے ہتک عزت بل کیخلاف عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا

لاہور ( این این آئی) پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ملک احمد خان بھچر نے ہتک عزت بل کی ہر فورم پر مخالفت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بل کے خلاف سنی اتحاد کونسل عدالت میں جا رہی ہے،ہتک عزت کا بل مخصوص ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے، بل کی 12شقوں میں تضاد ہے، یہ لوگ پنجاب سے پورے پاکستان کو چلانا چاہتے ہیں، اگر بل پاس ہو گیا تو ہم سمجھیں گے پیپلز پارٹی دونوں طرف سے کھیل رہی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور پریس کلب کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔دورہ میںارکان پنجاب اسمبلی امتیاز وڑائچ ، شیخ امتیاز اور قانونی ماہر ابوذر سلمان نیازی بھی موجود تھے ۔ لاہورپریس کلب کے صدر ارشد انصاری، سینئر نائب صدر شیراز حسنات ، نائب صدر امجد عثمانی ، ممبر گورننگ باڈی راناشہزاد، عابد حسین اور سید بدر سعید نے معزز مہمانوں کو کلب آمد پر خوش آمدید کہا۔ اپو زیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان بھچر نے میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ ہتک عزت بل مخصوص ذہنیت کی عکاسی ہے جوذہنوں کو صلب کرنے کے لیے بل پیش کیا گیا،ہتک عزت بل آمریت کی ابتدا ہے جو یہ مسلط کر رہے ہیں۔ نہ تو بل کو کمیٹی کو بھیجا اور نہ اس پر ترامیم لی گئی، یہ بل ان کے مسلط کردہ لوگوں کی طرف سے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک کمیٹی بنائی گئی جس میںہمارے ارکان بھی شامل کیے گئے لیکن جب بل کمیٹی میںگیا تو ہمارے ارکان کو نہیں بلایا گیا،کمیٹی نے بل میں کوئی ترمیم نہیں کی۔ یہ بل بنیادی قوانین کے آرٹیکل 12سے متصادم ہے۔ مسلط کیے گئے لوگوں کی طرف سے بل آیا ہے، ہر فورم پر اس بل کی مخالف کریں گے اس پر احتجاج کریں گے،یہ بل صرف پنجاب کا نہیں پورے پاکستان کے لیے ہے،اس بل کو پڑھیں گے تو سمجھ آئے گی اس بل میں خامیاں ہی خامیاں ہیں،اس بل میں خطرناک بات یہ ہے کہ اس میں قانون شہادت نہیں ہے ۔ہائیکورٹ میں ہم بحثیت جماعت اس بل کی مخالفت میں جا رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پی پی پی کو کہوں گا آپ وکٹ کے دونوں طرف مت کھیلیں،وفاق میں بھی آپ انکے ساتھ ہیں پنجاب میں آپکا گورنر ہے،پیپلز پارٹی آزادی صحافت کے ساتھ ہے تو بجٹ آرہا ہے آپ اس بل کے خلاف انکا ساتھ مت دیں تب ہم سمجھیں گے پی پی پی اس بل کے خلاف ہے ورنہ یہ ہے کہ پی پی پی دونوں طرف کھیل رہی ہے، اتنا ان کو مت ڈھانپیں کہ خود ننگے ہوجائیں۔انہوں نے کہاکہ کابینہ ایک ایسے نام سے ڈر رہی ہے ،یہ ہتک عزت بل کی دوسری قسط ہے ،بانی پی ٹی آئی پر پہلے دو سو مقدمات ہیں ،ہم آئی جی کے دفتر کے باہر بھی احتجاج کریں گے،پنجاب کابینہ کی اتنی اخلاقی حیثیت نہیں ،ہماری قانونی ٹیم اس کو دیکھ رہی ہے،ہمارے سنٹرل سیکرٹریٹ پر حملہ کیا گیا ،رو¿ف حسن پر حملہ آور ہوئے ،دنیا میں ہمارا تماشہ بن رہا ہے ،یو این او کے مشن کی موجودگی میں پولیس ہم پرحملہ آور ہوئی ،ٹک ٹاکر فارم سنتالیس کی حکومت کے چہرے سامنے آئے ہیں۔ ملک احمد خان بھچر کا کہنا تھاکہ اب یہ لوگ پنجاب سے پورے پاکستان کو چلانا چاہتے ہیں،1985ءسے یہ لوگ پنجاب پر حکومت کر رہے ہیں، ہم نے اب آگے دیکھنا ہے کہ آگے کیا کرنا ہے۔اس موقع پر لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری نے ہتک عزت بل 2024 کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ تمام سٹیک ہولڈرز سے ہماری ملاقات ہوئی ،اپوزیشن کے اعتراضات اورمخالفت کے باوجود یہ بل پاس کیاگیا، حکومت سے ہمارے طویل مذاکرات ہوئے تھے ، ہم نے تجویز دی تھی کہ دوبارہ سلیکٹ کمیٹی کو بھیجاجائے لیکن حکومت نے ہماری ایک نہ سنی ، رات کی تاریکی میں کالاقانون پاس کیاگیا، ہم اپوزیشن کے مرکزی قائدین سے ملاقاتیں کررہے ہیں اور حکومتی کوریج کے بائیکاٹ کی بھی تجویزبھی زیرغورہے، ہم پنجاب اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں بائیکاٹ کریں گے ، صحافت کے کچھ قواعد ہیں جس کی پاسداری ہم سب پر لازم ہے ، ہمارا مطالبہ تھاکہ سب سے ان پٹ لیاجائے ، جب یہ حکومت میں آتے ہیں تو صحافیوں کے گلے پکڑلیتے ہیں اور جب اپوزیشن میں آتے ہیں تو آزادی صحافت کے چیمپیئن بن جاتے ہیں، تحریک انصاف سمیت تمام جماعتیں اس بل کی مخالف ہیں۔پروگرام کے اختتام پر معزز مہمان کو کلب کی جانب سے پھول پیش کئے گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں