خضدار، چوری کے الزام میں 3 کمسن بھکاری بچیاں گرفتار

خضدار(بیورو رپورٹ) خضدار میں پیشہ ورانہ بھکاریوں اور جیب کتروں کی یلغار نے شہریوں کا جینا حرام کردیا ہے خضدار جھالاوان کمپلیکس میں گداگروں کے کمسن بچیوں کادکاندار کو چکمہ دےکرتین لاکھ روپئے چوری کرکے رفوچکر ہوتے ہی دکاندار نےکمسن بچیوں رنگے ہاتھو پکڑلیا سارادن بازار میں گداگروں اور بھکاریاں مختلف روپ میں خیرات کے بہانے لوگوں کو تنگ کرکے ساتھ ہی میں چوریاں کی جاتی ہے سندھ کے مختلف علاقوں سے آئےہوئے گداگروں بھکاریوں سال بھر خضدار کو ٹھیکے میں لےہے جنکا پیشہ صرف بھیک مانگنا ہے انکے شر کی وجہ سے لوگوں کا جینا محال ہوگیا ہے جن میں بیشتر خواتین چھوٹے چھوٹے بچے اوربچیاں شامل ہے تفصیلات کے مطابق خضدار میں سالوں سال پیشہ ورانہ بھکاریوں کی یلغار ہے جوکہ آجکل دکانوں سے سامان چوری اور جیب کترمیں ملوث ہے جھالاوسن کمپلیکس میں دکاندار کی تین لاکھ روپئے کیش چوری کرتے ہوئے تین کم سن بچیاں رنگے ہاتھوں گرفتار دوسری جانب یہی گروہ کچے کے ڈاکوؤں کی نیٹ کو چلانے کیلئے بلوچستان کے کئی شہروں کا رخ کیا ہے اور یہ گروہ بچے بھی اغواء کررہے ہےخضدار میں دن بدن پیشہ وارانہ بھکاریوں اورگداگروں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے سودا سلف لینے والے کاہکوں کو بیزارکرنے علاوہ مسجدوں کے گیٹوں میں ہرنماز کے وقت لائنوں کھڑے ہوکر بھیک مانگی جارہی ہے اپنے علاقہ سندھ کو چھوڑکر خضدار کو ٹھیکے پر بھیک مانگنے کیلئے لیا ہے انکا چوری چکاری وطیرہ بن چکا ہے بازار کے علاوہ گلیوں میں بھی آجکل چوڑی بیچنے اور خیرات مانگنے کے بہانے بچے اغواء اور دیگر سنگین برائیوں میں ملوث ہیں خضدار پولیس انتظامیہ صرف تماشائی بنا بیٹھا ہے کچھ بھکاریوں نے شہریوں کاجینا حرام کردی ہے بیشترسندھ سے آئے ہوئے پیشہ وارانہ بھکاریوں میں خواتین اور بچے شامل ہے جوکہ اپنے آپ کو معذور ثابت کرکے بھیک مانگا جارہا ہے اور اسی گداگری کے نام کا فائدہ اٹھاکر شہر میں چوری کی وارداتیں کی جاتی ہے جس پر کنٹرول کرنا پولیس کی ذمہ داری ہےخضدار کے عوامی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر خضدار عارف خان زرکون ایس ایس پی پولیس خضدار سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر پیشہ وارانہ بھکاریوں کے خلاف کاروائی کرکے عوام اسی کی شر نجات دلائی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں