ہائیکورٹ نے صدارتی آرڈیننس کے تحت تشکیل الیکشن ٹریبونل کو کام سے روک دیا
اسلام آباد(آن لائن )اسلام آباد ہائی کورٹ نے صدارتی آرڈیننس کے تحت تشکیل پانے والے الیکشن ٹریبونل کوکام کرنے سے روک دیا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواست گزاروں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے انجم عقیل خان کو اگلی سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے اسلام آباد کے الیکشن ٹریبونل کی تبدیلی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ الیکشن ٹریبونل کیوں تبدیل کیا، الیکشن کمیشن کو جوابدہ ہونا ہے۔خدا کا خوف کریں آپ نے ہائیکورٹ کے جج پر الزام لگایا ہے کہ جج اقرباپروری کرتا ہے، اپنے فائدے کے لیے انکو کسی کی کوئی پروا نہیں ، الیکشن کمیشن نے اس الزام میں کیسز ٹرانسفر کر دیئے، ہائی کورٹ کے جج کے حوالے ایسی زبان کا استعمال کرنے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کروں گا۔ اگر جج پر لگائے گئے الزامات غلط ہوئے تو وہ جیل جائے گا اور پانچ سال کیلئے نااہل بھی ہوگا، انہوں نے الزامات لگائے اور الیکشن کمیشن نے آرڈر بھی جاری کردیا۔انھوں نے یہ ریمارکس منگل کے روزدیے ہیں۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں الیکشن ترمیمی آرڈیننس اور الیکشن کمیشن میں ٹریبونل تبدیلی سے متعلق جاری کارروائی کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت ہوئی۔شعیب شاہین ایڈووکیٹ نے مو¿قف اختیار کیا کہ الیکشن ٹریبونل نے لیگی ایم این ایز کو وقت دیا لیکن انہوں نے ٹریبونل میں کوئی جواب تک جمع نہیں کروایا۔جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ٹریبونل کو تبدیل کیوں کیا ہے؟ سرکار مجھے سمجھائے سال پہلے یہ ترمیم ختم کی اب پھر آرڈیننس کے ذریعے لے آئے ہیں، قائم مقام صدر کیسے آرڈیننس جاری کرسکتا ہے؟ کیا ایمرجنسی تھی کہ راتوں رات آرڈیننس آگیا، سسٹم کو سسٹم رہنے دیں۔


