بلوچ راجی مچی، سمی دین اور ماہ زیب سمیت درجنوں رہنماؤں کیخلاف ایف آئی آر درج
کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک)بلوچستان کے علاقے واشک ،مستونگ ،قلات سمیت حب چوکی میں گذشتہ دنوں راجی مچی کی تیاری کے سلسلے میں شرکت پر لاپتہ افراد کے لواحقین اور بی وائی سی اور وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے درجنوں رہنماؤں کے خلاف ایف آئی آر درج کیے گئے ہیں۔ایف آئی آر لاپتہ ڈاکٹر دین محمد کی صاحبزادی سمی دین اور لاپتہ راشد حسین کی بھتیجی ماہ زیب،عارف بلوچ، وسیم بلوچ،زبیر بلوچ ،رحمت رحیم بلوچ سمیت درجنوں افراد کے خلاف درج کرلی گئی ہے۔پولیس کا موقف ہے مذکورہ افراد نے پاکستان کے نفرت انگیز تقریریں کی ہے جبکہ ریاست مخالف پمفلٹ تقسیم کئے ہیں اور وال چاکنگ کی گئی ہے۔ اس عوالے سے ڈاکٹر دین محمد کی صاحبزادی سمی دین نے اپنے ٹویٹر (ایکس) اکاؤنٹ میں بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ راجی مچی کی آگاہی مہم میں بلوچستان کے مختلف علاقوں سے سرگرم کارکنوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے جس میں واشک مستونگ قلات سمیت حب چوکی کے ایف آئی آر میں مجھ سمیت درجنوں افراد کے نام بھی شامل ہیں، گزشتہ روز حب ساکران کی پرامن اجتماع کو جواز بنا کر مقدمات بنانا بوکھلاہٹ کی عکاسی کرتی ہے۔ بظاہر لگ رہا ہے کہ بلوچ سیاسی کارکنوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے بے بنیاد مقدمات قائم کیے جارہے ہیں، مگر ان ہتھکنڈوں سے صاف ظاہر ہے کون کس سے خوفزدہ ہے۔


