ہم لوگوں کو ملازمت تونہیں دیتے، قانون کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں،چیف جسٹس

اسلام آباد(صباح نیوز)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ ہم لوگوں کو ملازمت تونہیں دیتے، قانون کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں،، اگرکسی نے نوکری نہیں لی اور آسامی خالی ہے تواس کے لئے الگ درخواست دیں، وہ ہم نہیں کرسکتے، ہم سرکار نہیں، درخواست گزار کی کی مجبوری کے لئے قانون تونہیں بدل سکتے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس نعیم اخترافغان اورجسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل 3رکنی بینچ نے منگل کے روز سروس اورپوائنٹمنٹ کے حوالہ سے مس نرگس کی جانب سے ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ آفیسر(ایس اینڈ ایل) ،مردان اوردیگر کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار مس نرگس نے ذاتی حیثیت میں پیش ہوکردلائل دیئے۔ چیف جسٹس کادرخواست گزارسے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آپ نے ایم اے اسلامیات اشتہاردیئے جانے کے بعد کیا اس لئے آپ کواضافی نمبرکیسے مل سکتے تھے، آپ نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اچھی بات ہے۔ چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ یہ نوکری آپ کے لئے نہیں ، آپ میرٹ لسٹ میں نیچے تھیں، دوسری نوکری آئے گی تواس کے لئے اپلائی کرلیں، اگرآپ ٹیچر ہیں اورہمارے سوالوں کاجواب نہیں دیتیں توہم کیا کرسکتے ہیں۔ چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ مقررہ تاریخ کے بعدآپ نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اس کے اضافی نمبر آپ کو کیسے مل سکتے ہیں۔ درخواست گزار خاتون کاکہنا تھا کہ مجھے نوکری کی بہت ضرورت ہے، میں بیوہ ہوں اورمیری ایک بیٹی بھی ہے۔ چیف جسٹس کہنا تھا کہ ہم لوگوں کو ملازمت تونہیں دیتے، قانون کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں، اگرکسی نے نوکری نہیں لی اور آسامی خالی ہے تواس کے لئے الگ درخواست دیں، وہ ہم نہیں کرسکتے، ہم سرکاری نہیں، ہم آپ کی مجبوری کے لئے قانون تونہیں بدل سکتے۔ چیف جسٹس کاخاتون درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ دوججز نے آپ کے خلاف فیصلہ دیا ہے توبتائیں ہم اُس کودرست کردیتے ہیں۔درخواست گزارخاتون کا کہنا تھا کہ دو کامیاب امیدواروں نے جوائننگ نہیںدی اس لئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی جائے کہ میرانام زیر غور لایا جائے۔ چیف جسٹس کا فیصلہ لکھواتے ہوئے کہنا تھا کہ پی ایس ٹی ٹیچر کی تین آسامیاں تھیں، درخواست گزار کا میرٹ پر پانچواں نمبر تھا۔ درخواست گزار نے ایم اے اسلامیات اشتہار کی تاریخ کے بعد کیااس لئے نمبر میرٹ میں شامل نہیں کئے گئے ، کٹ آف ڈیٹ اور انٹرویو کے بعد ایم اے اسلامیات کیا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر کچھ آسامیاں خالی ہیں تودرخواست گزار متعلقہ حکام کو درخواست دے سکتی ہیں۔ عدالت نے درخواست نمٹادی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں