ڈپٹی کمشنر پنجگور کا قتل کالعدم تنظیم نے کیا ہے، سرفراز بگٹی

کوئٹہ(یو این اے )وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے وزیراعلی سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈپٹی کمشنر پنجگور کو انتہائی بے دردی کے ساتھ قتل کرنے وڈسٹرکٹ کونسل کے چیئرمین مالک بلوچ کو زخمی کرنے کے واقعہ کی نہ صرف شدیدالفاظ میں مذمت کرتاہوں۔انہوں نے کہاکہ مجھے یقین ہے اور ہمارے پاس انٹیلی جنس معلومات اور ثبوت ہیں کہ یہ واقعہ بی ایل اے نے کیا ہے اور حملے کا طرز وہی نوشکی والا تھا۔ بلوچ روایات میں کب سڑکوں پر اپنے ہی بلوچ بھائیوں کو قتل کیا جاتا ہے ۔ بلوچوں کی نسل کشی تو ان کی جانب سے ہورہی ہے روزانہ کبھی آواران تو کبھی کہاں بلوچ مار دیتے ہیں اور پھر بلوچ روایات کی پاسداری کی بات کرتے ہیں،بلوچ یکجہتی کمیٹی میں شامل خواتین کے فورسز کے ساتھ رویئے کے باوجود ہم نے بلوچ روایات کی پاسداری کی ہے پاکستانی جھنڈے اتار کر آزاد بلوچستان کے جھنڈے لگانا، علیحدگی پسندوں کے ترانے بجانا، آزادی تک جدوجہد جاری رکھنے کی بات کرنا یہ سب چیزیں ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہیں اور ریاست کے خلاف ایک منظم سازش ہورہی ہے۔بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ساتھ تین معاہدے ہوئے تینوں انہوں نے توڑے۔ آئینی حدود کے اندر احتجاج قبول ہے ہم نے اب بھی صبر کا دامن نہیں چھوڑا ۔ہم ریاستی رٹ پر کمپرومائز نہیں کریں گے ۔ عوام کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے ۔ہمارے صبر کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے ۔تخریب کاری کرنے والوں کیلئے ہمارے دل میں کوئی ہمدردی نہیں ہے ۔مزدوروں ،عام لوگوں کو قتل کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹاجائے گا لاپتہ افراد ایک مسئلہ ہے اس پر کمیشن بنایا جس نے 80 فیصد کسز حل کردیے ہیں۔وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبے میں بے روزگاری کی شرح کم ہو گی۔ ضلعی سطح پر ٹاپ کرنے والے طلبہ کو بھی مواقع فراہم کرینگے بہت جلد لوگوں کو تبدیلی کے اثرات نظر آئیں گے انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سازشوں کا حصہ نہ بنیں ا خوت پروگرام لائے ہیں جس کے تحت نوجوانون کو بزنس ماڈلز دیں گے ،یہ نوجوان ملک بھر میں کہیں بھی کسی بھی شعبے میں اپنا بزنس کرسکیں گے ،بلوچستان کے 30ہزار نوجوانوں کو ہنر فراہم کرکے انہیں بیرون ملک بھیجیں تاکہ وہ اپنے گھر، صوبے اور ملک کیلئے کام کریں ۔وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے وزیراعلی سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرداربہادر خان ویمن یونیورسٹی میں میرٹ پر آنے والوں کو ہی بھرتی کریں گے ۔یہ بلوچستان کے عوام کے ساتھ میرا وعدہ ہے کہ محکمہ تعلیم اور محکمہ صحت میں جو صرف کنٹریکٹ پر بھرتیاں ہو ں گی۔ کسی معاشرے کو تقسیم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ اس کے لئے تمام اسٹیک ہولڈرز کو آگے آنے کی ضرورت ہے ۔وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ذاکر بلوچ سمیت بلوچستان کی ترقی و خوشحالی میں کردار ادا کرنے اور قربانی دینے والے شہدا کے لواحقین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے ان کو سنبھالیں گے۔ ذاکر بلوچ کی اہلیہ کو سرکاری نوکری دینے اور ان کے بچوں کی سولہ سال تک کی تعلیم کے اخراجات برداشت کرنے اور ہوشاب میں سرکاری کالج مقتول ڈپٹی کمشنر کے نام سے منسوب کرنے کا اعلان کیا۔ وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے وزیراعلی سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں گرفتار کیے گئےتخریب کاروں کی بحالی کے خیبر پختونخوا طرز پر مراکز بنانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ قانون سازی کے ذریعے بلوچستان میں بھی ایسے سینٹرز بنارہے ہیں جہاں جو تخریب کار بلیک ہیں ان کو رکھیں گے۔خیبر پختونخوا نے اس طرز کا ماڈل بنایا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں