کوئٹہ، انورکھیتران کے قتل کیخلاف نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ

کوئٹہ:نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر اسحاق بلوچ، صوبائی صدر عبدالخالق بلوچ ودیگر نے حکومت بلوچستان، عدالت عالیہ ودیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ ضلع بارکھان میں صحافی انور جان کیتھران کے قاتلوں کی گرفتاری کے لئے احکامات دیں، جام حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے، انور جان کیتھران کا قتل حق، سچ اور صداقت کی آواز کو خاموش کرنے کے مترادف ہے، انور جان کے قتل کے خلاف بلوچستان کی صحافتی تنظیمیں خاموش ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام بارکھان میں سماجی ورکر اور شوشل میڈیا ایکٹیوسٹ انو ر جان کیتھران کے خلاف کوئٹہ پریس کلب کے سامنے ہونے والے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مظاہرے سے نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر عطاء محمد بنگلزئی، بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے چیئرمین زبیر بلوچ، نیشنل پارٹی کے نیاز بلوچ،سعید سمالانی، صدیق بلوچ ودیگر نے بھی خطاب کیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینر سمیت نیشنل پارٹی کے جھنڈے اٹھارکھے تھے۔ بینر اور پلے کارڈز پر انور جان کھیتران کے قاتلوں کی گرفتاری سے متعلق نعرے درج تھے۔ اس موقع پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ بارکھان میں اظہار رائے اور عوام کے حقوق کے مطالبہ پر پابندی کے باوجود انور جان کھیتران بلا خوف ظلم کے خلاف اپنی قلم کے ذریعے جدوجہد کرتے رہے اس سلسلے میں انہیں دھونس دھمکیوں کے ذریعے روکنے کی کوششیں کی گئیں تاہم انہوں نے بلاخوف و خطر عوام کے مسائل اجاگر کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جس کی پاداش میں انہیں سرعام گولیاں مار کر قتل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انور جان کیتھران شہید کرکے اظہار رائے پر قدغن لگایا جارہا ہے مگر آج بارکھان کی عوام باشعور ہوچکی ہے بارکھان کے لوگ ظلم اوربربریت کے خلاف ہر پلیٹ فارم پر آواز بلند کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحافی انور جان کھیتران کے قتل کے خلاف بلوچستان کے صحافتی تنظیموں کو آواز بلند کرنا چاہیے تھا ملک کے نامور صحافی حامد میر و دیگر نے اس کے خلاف آواز اٹھایا مگر افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ آج صوبے کی صحافتی تنظیمیں خاموش ہیں۔ انور جان کھیتران میڈیا کے آواز تھے بارکھان میں ہونے والے ظلم کے خلاف تھا اس کا کسی کے ساتھ ذاتی دشمن نہیں تھی بلکہ علاقے کے مسائل اور مظالم کے خلاف اپنے قلم کے ذریعے جدوجہد کرتے رہے جس کی پاداش میں انہیں گولیوں سے چھلنی کردیا گیا۔ مقررین نے حکومت، عدالت عالیہ اوردیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ انور جان کیتھران کے قاتلوں کو گرفتار کرنے کے احکامات دے کر ان کے لواحقین کو انصاف دلائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں