اگر ہم نے روگ سٹیٹ نہیں بننا تو عالمی عدالت اور ایف اے ٹی ایف کو تسلیم کرنا ہے،فروغ نسیم

اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون و انصاف بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ اگر ہم نے بین الاقوامی دنیا میں روگ سٹیٹ نہیں بننا تو بین الاقوامی عدالت انصاف اور ایف اے ٹی ایف کو تسلیم کرنا ہے، کلبھوشن کو سہولت دینے کے لئے کوئی آرڈیننس نہیں لایا گیا، اپوزیشن ارکان نے اپنے دور اقتدار میں بھی اس طرح کے بل آنسو بہاتے ہوئے منظور کئے تھے، عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ نہ مانتے تو بھارت سلامتی کونسل میں ہمارے خلاف قرارداد لاتا، اپوزیشن کے ساتھ مشاورت سے قوانین لائیں گے، بنیادی حقوق سے متصادم قانون سازی نہیں کریں گے۔ بدھ کو ایوان بالا کے اجلاس کے دوران آرڈیننسز پیش کرنے پر اپوزیشن کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ سینیٹر رضا ربانی بہت قابل احترام ہیں، انہوں نے کہا کہ ہماری ڈوریاں عالمی استعمار ہلا رہی ہے، کیا ہمیں آئی سی جے کا فیصلہ نہیں ماننا چاہیے؟ کیا وہ یہ کہنا چاہ رہے ہیں۔ کیا ایف اے ٹی ایف کا مینوئل اور قانون ہمیں نہیں تسلیم کرنا چاہیے، اگر ہم بین الاقوامی دنیا میں روگ سٹیٹ نہیں بننا تو ہمیں آئی سی جے اور ایف اے ٹی ایف کو تسلیم کرنا ہے، کلبھوشن کو سہولت دینے کے لئے کوئی آرڈیننس نہیں لایا گیا، جو بھی سہولت ہے یہ سب کے لئے ہے، سینیٹر ربانی نے اپنے دور اقتدار میں بھی آنسوں کے ساتھ ہی سہی لیکن منظور کیا تھا، ان کے خلاف ووٹ نہیں دیا تھا۔ مسلم لیگ (ن) نے آئی سی جے میں کلبھوشن کا مقدمہ لڑنے کا درست فیصلہ کیا اور 80، 90 فیصد یہ مقدمہ پاکستان نے جیتا، باقی 20 فیصد بھی ہمارے خلاف نہیں تھا، پاکستان پر یہ چھوڑا گیا کہ وہ کلبھوشن کو اپیل کا حق دینے کے لئے کیا اقدامات کرتا ہے، اگر ہم یہ فیصلہ نہ مانتے تو بھارتی حکومت سلامتی کونسل میں ہمارے خلاف قرارداد لاتا۔ فروغ نسیم نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کے جو بلز آنے ہیں اس میں فالو اپ رپورٹ جو پاکستان کے حق میں ہے، ان کی روشنی میں لائے جانے ہیں، اپوزیشن کے ساتھ بیٹھ کر مشاورت سے قوانین لائیں گے، بنیادی حقوق سے متصادم قانون سازی نہیں کرینگے۔ بعد ازاں ارکان کی طرف سے اپنے اوپر ہونے والی ذاتی تنقید کا جواب دیتے ہوئے بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ ایوان میں میری ذات پر حملے کئے گئے، جو حملے کئے گئے وہ سر آنکھوں پر، میں بدتمیزی سے جواب دوں گا نہ تندی و تیزی سے جواب دوں گا، شریف الدین پیرزادہ، عزیز اے منشی نواز شریف کے بھی قانونی مشیر رہے، میرا تعلق ایم کیو ایم سے ہے، اگر وہ کہتے ہیں کہ میں ان کے کوٹے کا وزیر نہیں تو وہ اس لئے ایسا کہتے ہیں کہ جو دو وزارتیں وہ مانگتے ہیں وہ ان کو نہیں ملیں، مجھ پر کرپشن کا الزام نہیں، مجھ میں کوئی دو نمبر نہیں ہے، یہی وہ گیڈر سنگھی ہے جو میرے پاس ہے جس کا ذکر مشاہد اللہ خان نے کیا ہے، کسی غلامی یا دبا میں نہیں پاکستان نے آئی سی جے کے پراسیس کے تحت عمل کیا ہے، آرڈیننس لانا آئین میں لکھا ہے جس وقت آرڈیننس آئے اس وقت پارلیمان کا سیشن میں نہ ہونا لکھا ہے جب ہم یہ آرڈیننس لائے تب پارلیمان سیشن میں نہیں تھی، اب جب سیشن ہو رہا ہے تو ہم نے یہ آرڈیننس پارلیمان میں پیش کر دیئے ہیں، مشیروں کی تعداد کے حوالے سے آئین میں حد مقرر ہے، آرڈیننس لانے کی تاریخ ہے، اٹھارویں ترمیم میں مشیروں کی تعداد، آرڈیننس کے حوالے سے ہم نے کوئی خلاف ورزی نہیں کی، ایم کیو ایم پاکستان کا اب الطاف حسین سے کوئی رابطہ نہیں ہے، ان سے راستہ جدا کر لئے، اب ان سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں