چمن میں نہتے عوام پر فائرنگ کی مذمت، اہلکاروں کا رویہ شرمناک ہے، بلوچستان بار کونسل
کوئٹہ؛بلوچستان بار کونسل کے جاری ایک بیان میں چمن میں نہتے عوام پر فائرنگ تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بے چمن کے عوام اپنے روز گار کے حصول کیلئے پرامن دھرنا دئیے بیٹھے ہیں جس پر فائرنگ اور تشدد کسی بھی صورت میں مناسب نہیں بیان میں کہا کہ بلوچستان کے عوام کی ہزاروں سالوں کا تاریخ ہے جن کی ایک دوسرے ممالک میں زمینیں اور رشتے داریاں بھی ہیں ڈیورڈ لائن کو بلوچستان کے لوگوں نے پہلے بھی مسترد کردیا تھا بیان میں کہا کہ بلوچستان کے بارڈر میں موجود ہزاروں لوگوں کی روزگار کا ذریعہ ہے جس بند کرنا خلاف قانون ہے بیان میں کہا کہ بلوچستان تاریخی اور جغرافیائی لحاظ سے بلوچستان میں آباد اقوام کی رشتے داریاں افغانستان اور ایران کے ساتھ ہیں وہاں پر ہمارے لوگوں کی قبرستانیں بھی ہیں بارڈر میں اہلکاروں کا مقامی لوگوں کے ساتھ رویہ انتہائی شرمناک ہے لوگوں کے بدتمیزی کے ساتھ پیش آتے ہیں لوگوں کے عزت و نفس کو مجروح کرتے ہیں خواتین بچوں کی تذلیل کرتے ہیں جسے بلوچ پشتون معاشرے ایسا عمل ناقابل برداشت ہے بیان میں کہا کہ ہمارے اطلاعات کے مطابق سیکورٹی فورسز کے فائرنگ اور لاٹھی چارجز سے کئی لوگوں ہلاکتیں اور درجنوں بھر لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں خواتین بچے بھی شامل ہیں بیان میں کہا کہ بلوچستان اس اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور تاجر برادری کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہارکرتےہوئے مطالبہ کرتے ہیں تاجر برادری پورے بلوچستان میں اس ناروا سلوک کے خلاف شٹرڈاون ہڑتال کرے بلوچستان بار کونسل نے مطالبہ کیا کہ فائرنگ اور تشدد میں ملوث اہلکاروں کے خلاف فوری کاروائی عمل میں لائی جائے لوگوں کے جائز مطالبات کو تسلیم کیا جائے بلوچستان بار کونسل عوام کے ساتھ ہے اور انکی ہر جدوجہد میں عوام کے ساتھ رہیگی


