باڈر کی بندش کیلئے گزشتہ 20سالوں سے سازشیں کی جارہی ہیں، پشتونخوا میپ
کوئٹہ: پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ کے پریس ریلیز میں چمن میں نہتے اور بے گناہ شہریوں پر ایف سی کی اندھا دھند فائرنگ جس کے نتیجے 3افراد کے شہید اور درجنوں کے زخمی ہونے کے المناک اور پشتون دشمن اقدام کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ چمن کے شہری اور سیاسی پارٹیاں چمن کے ڈیورینڈ لائن کے تجارتی راستے کی مسلسل بندش کے خلاف گزشتہ دو ماہ سے احتجاج کررہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ چمن کے ڈیورینڈ لائن کے تجارتی راستے کو 2مارچ کے پوزیشن پر بحال کیا جائے مگر سلیکٹڈ حکمرانوں نے مسلسل ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا اور گزشتہ روز خود حکومت نے اعلان کیا کہ 2دن کے لئے جذبہ خیر سگالی کی بنیاد پر تجارتی راستے کو کھول دیا جائے گا مگرآج پھر راستے کو بند کیا گیا جس کی وجہ سے ہزروں لوگ جس میں بچے، خواتین شامل تھی پھنس گئے اور اس گرمی کے موسم میں لوگ سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ اس دوران ایف سی نے نہتے اور بیگناہ شہریوں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں 3افراد کے شہید اور درجنوں افراد زخمی ہوئے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ باڈر کی بندش کیلئے گزشتہ 20سالوں سے سازشیں کی جارہی ہے زئی وخیلی کو بنیادبناکر پشتون قوم کو آپس میں لڑانے کی کوششیں کی گئی اور کبھی دہشتگردی کی روک تھام کا بہانہ کرکے سرحدی تجارت وآمدورفت پر پابندیاں عائد کی گئی۔ اداروں کی لاپرواہی وغفلت اور منصوبہ بند سازشوں کے باعث بلاآخر آج دو ممالک کو جنگ میں دھکیلا جارہا ہے جس کے باعث دونوں طرف پشتون افغان غیور ملت کا خون ناحق بہنے کے ساتھ ساتھ ان کے املاک، گھروں وکاروبار کو نقصان پہنچے گا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پشتونخوامیپ نے ہمیشہ ایف سی کے اس عوام دشمن پشتون دشمن اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت اور اداروں کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ ان عوام دشمن اقدامات کا نوٹس لیا جائے اور ملوث آفیسران واہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے لیکن اسے نظر انداز کیا گیا اور آج چمن میدان جنگ میں تبدیل ہوا۔ بیان میں کہا گیا کہ موجودہ سلیکٹڈ وفاقی وصوبائی حکومتیں اور اس میں شامل پارٹیاں اس خونزیزی کی ذمہ دار ہے اور وہ اس سے خود کو بری الذمہ نہیں قرار دے سکتی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ دو ماہ سے عوام کا مطالبہ ہے کہ راستہ کھول دیا جائے مگر مرکزی اور صوبائی حکومت ٹس سے مس نہیں ہورہی ہے اورآج آخر کار حکومت اور اس کے اتحادیوں نے خون کی ہولی کھیل کر نہتے شہریوں پر گولیاں چلائی۔ بیان میں کہا گیا کہ تجارتی راستے کو فی الفور کھلا جائے اور عوام کے آنے جانے پر پابندی کو ختم کیا جائے اور فائرنگ کی اعلی سطحی عدالتی کمیشن کے ذریعے تحقیقات کرکے ملوث آفیسران واہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ پارٹی بیان میں شہید ہونیوالوں کے خاندانوں سے دلی ہمدردی ویکجہتی کا اظہار کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ پشتونخوامیپ اس غم کی گھڑی میں ان کے برابر کی شریک ہیں جبکہ زخمیوں کی جلد صحیتیابی کیلئے دعا کی گئی ہے۔


