بلوچستان مقتل گاہ اور قید خانہ بن چکا ہے،ڈاکٹرحئی بلوچ
کوئٹہ: نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان مقتل گاہ اور قید خانہ بن چکا ہے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جگہ جگہ چیک پوسٹیں قائم ہیں اس کے باوجود قاتل گرفتار نہیں ہوتے ہیں خضدار ہندؤ پنچائیت نانک رام سوشل‘ میڈیا ایکٹیویسٹ انور جان کھیتران پنجگور کمسن بچہ‘ فقیر اور خاران میں منظور کے اغواء کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ چند دنوں میں وڈھ میں ہندؤ پنچائیت کے سربراہ نانک رام سوشل اور میڈیا ایکٹیویسٹ پنجگور میں کمسن بچہ‘ فقیر اور خاران میں اغواء ہونے والے منظور کو شہید کر دیا ہے پہلے بھی پنجاب میں بلوچستان کے طلباء اور تعلیمی اداروں میں ان کے ساتھ ہمیشہ جھگڑا فساد کرتے رہے ہیں حالیہ دنوں میں منظور کی شہادت سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ پنجاب کے قوم پرست انتہاء پسندی کا اظہار کرتی ہے پہلے سے بلوچستان کے عوام ریاستی دہشت گردی کی وجہ سے پنجاب کا حکمران طبقہ ناراض ہے بلکہ انہیں اپنا دشمن سمجھتے ہیں اسی طرح کے عمل سے نفرتوں کی دیوار اور بڑی ہو جائے گی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان واقعات کے علاوہ ایسے بے شمار قتل و غارت بے شمارواقعات ہو رہے ہیں جس کا میڈیا میں بھی رپوٹنگ تک نہیں ہوتی ہے ایسا نظرآرہا ہے کہ بلوچستان مقتل گاہ اور قید خانہ بن چکا ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کوئی اقلیت محفوظ نہ اکثریت نوجوان کم عمر بچے بزرگ سمیت خواتین محفوظ نہیں ہیں حالانکہ سالانہ کروڑوں کے حساب سے فورسز کو امن وامان کے لئے عوام کے ٹیکس کے خزانہ سے پیسے خرچ کئے جارہے ہیں اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکورٹی چیک پوسٹیں قائم ہیں اس کے باوجود قاتل گرفتار نہیں ہوتے ان تمام واقعات کے حوالے سے حکمران قوتوں کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے آخر میں مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام واقعات میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرکے کیفرکردار تک پہنچائیں اور تمام واقعات میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے دلی تعزیت کرتے ہیں اور ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔


