بلوچستان، 60ہزار اساتذہ کو کورونا وائرس سے بچاؤ سے متعلق تربیت دینے کا فیصلہ
کوئٹہ،محکمہ تعلیم بلوچستان نے صوبے میں 60ہزار اساتذہ کو کورونا وائرس سے بچاؤ سے متعلق تربیت دینے کا فیصلہ کرلیاپہلے مرحلے میں ایک ہزار ہیڈ ماسٹرز کو تربیت دی گئی ہے جو دیگر اساتذہ کو سینیٹائزیشن اور ایس او پیز پر عملدرآمد سے متعلق تربیت فراہم کرے گا۔ بلوچستان کے 60ہزار سے زائد اساتذہ اور سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم 10لاکھ بچے اور بچیاں ایس او پیز پر عمل پیرا ہوں گے سیکرٹری سیکنڈری تعلیم بلوچستان غلام علی بلوچ نے بتایا کہ”ایک ہزار ہیڈ ماسٹرز کو پہلے ہی تربیت دی جا چکی ہے جو بعد میں دیگر اساتذہ کو تربیت دیں گے‘ سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور یونیسف نے اساتذہ، عملہ اور طلبا کے لئے اسکولوں کے کھولے جانے کے بعد اس مہلک وائرس پر قابو پانے کے لئے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پیز)تیار کئے ہیں،غلام علی بلوچ نے بتایا کہ "تمام سرکاری اسکولوں میں 10 لاکھ سے زیادہ طلبا کو ایس او پیز کو اپنانے کے لئے تیار کیا جائے گا“توقع کی جا رہی ہے کہ ملک میں تعلیمی ادارے رواں سال 15 ستمبر سے کھولے جائیں گے وبائی امراض پھیلنے کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے ملک بھر کے تمام تعلیمی ادارے بند کردیئے تھے۔سیکرٹری تعلیم نے بتایا کہ اسکولوں کے کھولنے کے بعد گرلز گائیڈ، بوائے اسکاؤٹس اور پورا عملہ ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گا۔ اس وقت بلوچستان میں سرکاری سطح پرائمری، مڈل اور ہائی اسکولوں کی تعداد 14000،کے قریب ہے۔ اس سے قبل ایس او پیز سے متعلق تشکیل کردہ اسٹیئرنگ کمیٹی جس میں سیکنڈری تعلیم، صحت، سماجی بہبود، پی ایچ ای، کالجز اور ہائر ایجوکیشن کے سیکرٹریوں اور صحت عامہ کے ماہرین ڈاکٹر ناصر بگٹی، ڈاکٹر سبینہ بلوچ شامل ہیں نے بنائے گئے ایس او پیز کا جائزہ لیا۔


