یمن،اسرائیل کی صنعا ایئرپورٹ پر بمباری، عالمی ادارہ صحت کے سربراہ بال بال بچ گئے

اسرائیل نے یمن کے دارالحکومت صنعا کے ہوائی اڈے، مغربی ساحلی پٹی پر تین بندرگاہوں کے ساتھ حوثی گروپ سے جڑے متعدد اہداف کو نشانہ بنایا، حملے کے دوران عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئس بال بال بچ گئے۔قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اسرائیل کا کہنا تھا کہ صنعا کے ہوائی اڈے اور ساحلی پٹی پر تین بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کے ساتھ حوثیوں سے جڑے متعدد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔یمن کے صنعا ایئرپورٹ میں اسرائیلی دھماکوں کے وقت عالمی ادارہ صحت کے سربراہ بھی موجود تھے۔اسرائیلی فوج کے مطابق حملوں میں فوجی تنصیبات، ہزیز اور راس کناتب میں بجلی گھروں کو نشانہ بنایا گیا۔یمن کے صحافی حسین ال بخیتی نے ’الجزیرہ‘ کو بتایا کہ دارالحکومت صنعا میں ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں اسرائیل نے کنٹرول ٹاورز کو نشانہ بنایا۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کا خیال ہے کہ یمن اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایک بڑی کارروائی کرے گا۔دریں اثنا، عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئس نے کہا کہ وہ اور ان کے اقوام متحدہ کے ساتھی صنعا ایئرپورٹ پر موجود تھے، جب اسے اسرائیل کی جانب سے نشانہ بنایا گیا۔انہوں نے مائیکرو بلاگنگ ’ایکس‘ پر جاری پیغام میں کہا کہ ’ حملے سے ہمارے جہاز کے عملے کا ایک رکن زخمی ہوا ہے جبکہ ایئرپورٹ پر موجود 2 افراد کی موت کی اطلاع ہے۔’ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئس کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ اور ڈبلیو ایچ او کی ٹیمیں یمن میں صحت کی صورتحال اور اقوام متحدہ کے حراست میں لیے گئے عملے کی رہائی کے لیے مذاکرات کے لیے موجود ہیں۔’

اپنا تبصرہ بھیجیں