بلوچستان میں ملتوی انسداد پولیو مہم کل دوبارہ شروع ہوگی، گرینڈ ہیلتھ الائنس کا احتجاج جاری

کوئٹہ(یو این اے )بلوچستان میں انسداد پولیو مہم کل سے شروع کی جائے گی، تاہم اس مہم کو چلانے کے حوالے سے متنازعہ صورتحال برقرار ہے۔ گرینڈ ہیلتھ الائنس بلوچستان نے ہسپتالوں کی ممکنہ نجکاری اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کنٹریکٹ پالیسیوں کے خلاف احتجاجی بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا جس کی وجہ سے بلوچستان میں دو مرتبہ پولیو مہم ملتوی ہو چکی ہے۔بلوچستان میں اس وقت 27 پولیو کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جو صوبے میں پولیو کے بڑھتے ہوئے خطرات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ گرینڈ ہیلتھ الائنس کے ذرائع کے مطابق حکومت محکمہ صحت کے تربیت یافتہ ملازمین کے بجائے غیر تربیت یافتہ اور نان پروفیشنل افراد کے ذریعے پولیو مہم چلانے کی کوشش کر رہی ہے، جس سے بچوں کی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ذرائع کے مطابق نئے غیر تربیت یافتہ افراد کو پولیو ویکسین کی افادیت اور کولڈ چین کے بارے میں کوئی آگاہی نہیں ہے۔ ایسی صورتحال میں انسداد پولیو مہم چلانا بلوچستان کے بچوں کے لیے خطرے کا باعث بن سکتا ہے، کیونکہ غلط طریقے سے ویکسین کی فراہمی سے بیماری کے پھیلا کا خدشہ ہے۔ماہرین صحت اور گرینڈ ہیلتھ الائنس نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پولیو مہم میں صرف تربیت یافتہ، تجربہ کار اور پروفیشنل عملے کو شامل کیا جائے تاکہ بچوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔ جلد بازی میں شروع کی جانے والی مہم سے بلوچستان میں مزید نئے پولیو کیسز رپورٹ ہونے کا خطرہ ہے، جس سے صوبے میں صحت کی صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔