پنجاب کے جامعات میں بلوچستان کا کوٹہ سسٹم ختم کرنا قابلِ مذمت ہے : بلوچ کونسل پنجاب یونیورسٹی

کوئٹہ :بلوچ کونسل پنجاب یونیورسٹی کے چیئرمین اسد رند نے بلوچستان کا کوٹہ سسٹم ختم کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے طلبہ و طالبات کے ساتھ ناروا سلوک بند کیا جائے بلوچ کونسل پنجاب یونیورسٹی اس عمل کی مذمت کرتا ہے۔
چیئرمین نے کہا ہے کہ بلوچستان کو جان بوجھ کر تعلیم سے دور کیا جا رہا ہے پہلے جامعہ پنجاب سے کوٹہ سسٹم کے Reserved سیٹس کو کم کردیا گیا اور اب بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے بلوچستان کے کوٹہ سسٹم ختم کرنا قابلِ مذمت ہے اور بلوچ کونسل جامعہ پنجاب اس کی پُرزورمزمت کرتی ہے،تعلیم دشمنی پالیسیاں نامنظور ہم اپنے حقوق سے دستبردار نہیں ہونگے ۔

پہلے پنجاب یونیورسٹی میں ۱۰۶سیٹس کو کم کرکے ۵۳کردیا تھا جس پہ بلوچ کونسل جامعہ پنجاب نے وقتاً فوقتاًاحتجاج ریکارڈ کرائےتھے اب جاکر ۷۰سیٹس کردئے گئے مگر ہم مطالبہ کرتے ہیں نہ صرف تمام سیٹس کو واپس بحال کیا جائے بلکہ تعلیم کے فروغ کیلئے سیٹس مزید بڑاھی جائیں۔
بلوچستان کے دُور افتادہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے ہونہار طلبہ و طالبات کے لئے تعلیمی راستے بند کرنا قابلِ مذمت عمل ہے پنجاب یونیورسٹی اور بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کے انتظامیہ سمیت وزیر اعلیٰ پنجاب ، وزیر اعلیٰ بلوچستان اور ہایئر ایجوکیشن کمیشن سے پرزور اپیل کرتے ہیں اس فیصلے پر نظرِ ثانی کریں بصورتِ دیگر ہم جمہوری و آئینی طور پر احتجاج کا دائرہ وسیع کریں گے۔

بلوچستان کے طلبہ و طالبات کو جان بوجھ کر دیوار سے لگایا جا رہا ہے جس سے نفرتیں بڑھانے کی کوششیں کی جا رہی ہے۔ صوبوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے نوجوانوں کے لئے راہ ہموار کرنا چاہیے نہ کہ ان کو تعلیم سے دور رکھ کر راہِ فرار اختیار کرنے پہ مجبور کیا جائے۔
بلوچستان سے لاکھوں طلبہ و طالبات سالانہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے پنجاب ، کے پی کے، سندھ سمیت وفاق کے جامعات میں تعلیم حاصل کرنے کے غرض سے جاتے ہیں اور سالانہ سیکنڑوں نوجوان ڈگریاں حاصل کرکے ملکی و غیر ملکی اداروں میں اپنی صلاحیتیں ظاہر کررہے سب سے بڑھ کے ملک بھر میں ابھی پوزیشنز پہ سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں کام کر رہے ہیں اور معاشرے کی فلاح وبہبود کیلئے کوشاں ہیں۔
بےروزگاری کی شرح میں اضافے نے بلوچستان بھر کے نوجوانوں میں مایوسی پیدا کردی ہے جس سے کئی نوجوان اب تک خودکشیاں کرچکے ہیں۔ اگر اب تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھی ان پہ ظلم کے پہاڑ گرا دیا گیا تو انتہائی خوفناک اثرات مرتب ہوسکتے ۔

ہم صوبہ پنجاب، بلوچستان اور وفاقی وزیر تعلیم اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ بلوچستان کا کوٹہ سسٹم بحال کریں جس تیزی سے بلوچستان کے نوجوان تعلیم کی طرف مائل ہو رہے ہیں اس سے بڑھ کر خوشی کی بات نہیں یہی لوگ کل کو ملکی سطح پر ملک کے لئے کام کرنے کی صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔
ہم امید کرتے ہیں کے حکومت اور اعلی حکام نہ صرف ہماری آواز سنیں گے بلکہ تعلیم دوستی کا مظاہرہ کرکے سیٹوں کو مزید بڑھائینگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں