حیات بلوچ کا قتل ،ریاست قاتلوں کیخلاف فریق بن کر ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچائے ، حاجی لشکری رئیسانی

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے تربت میں طالب علم محمد حیات بلوچ کے بہیمانہ قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرنے کیلئے ریاست قاتلوں کیخلاف فریق بن کر ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچائے ،ہفتے کی شب کراچی یونیورسٹی کے طلبہ سے ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے مزید کہا کہ کراچی یونیورسٹی کے ہونہار طالب علم محمد حیات بلوچ کا بہیمانہ قتل بلوچستان کے تعلیم یافتہ طبقہ اور ان والدین جو جبر ،ناانصافیوں اور غربت کے باوجود اپنے بچوں کوحصول علم کیلئے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بھیجتے ہیں ان پر حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں جس طرح بلوچستان کے تعلیم یافتہ طبقہ، وکلاء طالب علموں کے بہیمانہ قتل کے واقعات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا محمد حیات بلوچ کا قتل اسی دہشتگردی کی ایک کڑی ہے جو طویل عرصہ سے بلوچستان اورصوبے میں سیاسی شعور رکھنے والے افراد اور طالب علموں پر مسلط کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ریاست چاہتی ہے کہ بلوچستان کے لوگ اور ریاستی نظام کے درمیان پیدا ہونے والی بداعتمادی کی فضاء کو بہتر کیا جائے تو ریاست سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے محمد حیاب بلوچ کے قتل میں ملوث قاتلوں کیخلاف فریق بن کر قاتلوں کوکیفر کردار تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کر تے ہوئے مظلوم خاندان کو انصاف فراہم کرے ۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی پاسداری کی قسم کھانے والی پارلیمنٹ کو چائیے کہ وہ واقعہ کی تحقیقات کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دے جس میں چاروں صوبوں کے بارایسوسی ایشنز کے صدر ، ریٹائرڈ جج اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کو شامل کیا جائے ۔مذکورہ کمیٹی واقعہ کے تمام محرکات کا جائزہ لے کہ کس طرح محمد حیاب بلوچ کو قتل کرکے ان کے خاندان کو آئندہ نسل سے محروم کیا گیا ۔ نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی نے مطالبہ کیا کہ واقعہ کی شفاف تحقیقات کرکے حقائق کو عوام کے سامنے لایا جائے اور صوبے میں جاری جبر کا راستہ روکنے کیلئے قانون سازی کی جائے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں