لبنانی ملیشیا نے ایرانی افسران کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) ایک طرف عمان میں امریکہ اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات جاری ہیں۔ دوسری طرف لبنان میں ان کے ممکنہ اثرات کو گہری نظر سے دیکھا جارہا ہے، خصوصاً حزب اللہ کے حلقوں میں ان مذاکرات پر خاص نظر رکھی گئی ہے۔ ان مذاکرات کے نتائج نہ صرف خطے کے سیاسی توازن بلکہ حزب اللہ کے اسلحہ اور لبنان کی عمومی صورت حال پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق حزب اللہ کے اعلیٰ عہدیداران ان کی کامیابی کے خواہاں بھی ہیں۔انہوں نے ایرانی قیادت سے یہ درخواست کی ہے کہ ایران کے کسی بھی "پاسدارانِ انقلاب” کے افسر کو اب مزید لبنان میں نہ رکھا جائے۔ یہ فیصلہ اس خدشے کے پیش نظر کیا گیا ہے کہ اسرائیل مذاکرات کے حساس موقع پر کسی ایرانی افسر کو نشانہ بنا کر ایران کو سفارتی طور پر مشکل میں ڈال سکتا ہے اور واشنگٹن کے ساتھ جاری بات چیت میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ کیونکہ بنجمن نیتن یاھو کی قیادت میں اسرائیلی حکومت ایران کی جوہری تنصیبات کو ختم کرنے اور اس کے خلاف محاذ کھڑا کرنے میں کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کے متعدد افسران لبنان میں موجود ہیں، جو انتہائی سخت سیکورٹی حصار میں رہتے ہیں۔ ان کی نقل و حرکت انتہائی محتاط انداز میں کی جاتی ہے تاکہ اسرائیل کو کوئی انٹیلیجنس معلومات حاصل نہ ہوسکیں جیسا کہ ماضی میں کئی بار ہوا جب اسرائیلی بمباری میں حزب اللہ کے رہنماﺅں کے ساتھ ایرانی افسران بھی جانیں گنوا چکے ہیں۔ زیادہ تر ایرانی افسران جنوبی بیروت کے نواحی علاقے اور بقاع وادی کے دور دراز مقامات میں قیام پذیر ہیں جہاں وہ مکمل طور پر نگاہوں سے اوجھل رہتے ہیں تاکہ دشمن کی آنکھ سے بچ سکیں۔ یہ فیصلہ ایک طرف ایران کو عالمی سطح پر شرمندگی سے بچانے کی کوشش ہے تو دوسری جانب حزب اللہ کی حکمت عملی کا حصہ ہے، تاکہ وہ اپنے اتحادی کی حفاظت کر سکے اور موجودہ سفارتی صورتحال کو مزید بگاڑنے سے بچایا جا سکے۔


