اسرائیلی اور بھارتی وزیراعظم کی جانب سے افغان حکومت کی حمایت میں جاری بیان ڈیپ فیک اے آئی وڈیو سے بنایا گیا، رپورٹ

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ اسرائیل کے دوران نیتن یاہو کی ایک جعلی ویڈیو بھی وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ انڈیا اور اسرائیل افغان طالبان سے ہر ممکن تعاون کریں گے۔ بعض صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین نے اس ویڈیو کلپ کو شیئر کیا اور اسے پاکستان اور افغان طالبان کے مابین جاری مخاصمت کے تناظر میں انڈیا اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ قرار دیا۔ یہ بھی کہا گیا کہ نیتن یاہو نے ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم مودی کے ہمراہ مشترکہ نیوز کانفرنس کے دوران کیا۔ ڈیپ فیک اے آئی ویڈیو میں اسرائیلی وزیر اعظم سے یہ بھی منسوب کیا گیا کہ ا±نھوں نے کہا کہ انڈین وزیراعظم کی درخواست پر اسرائیل افغان طالبان کے لیے خصوصی امدادی پیکج کا بھی اعلان کر رہا ہے۔ لیکن بعد ازاں معلوم ہوا کہ انڈین وزیر اعظم نے اسرائیلی وزیر اعظم کے ہمراہ کوئی مشترکہ نیوز کانفرنس نہیں کی جبکہ دونوں رہنماو¿ں نے اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) سے الگ الگ خطاب کیا جس میں اسرائیلی وزیر اعظم نے افغانستان، طالبان اور پاکستان سے متعلق کوئی گفتگو ہی نہیں کی۔ یاد رہے کہ اسرائیل کے دو روزہ دورے پر آنے والے انڈین وزیرِ اعظم نے بدھ کو اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) سے خطاب کیا تھا، جہاں نیتن یاہو بھی موجود تھے۔ انڈین وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق یہ کسی بھی انڈین وزیراعظم کا اسرائیلی پارلیمنٹ سے پہلا خطاب تھا اور اس خطاب میں وزیر اعظم مودی نے دونوں ممالک کے تعلقات کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔ بی بی سی نے دونوں وزرائے اعظم کے خطاب کا تفصیلی جائزہ لیا تو اس میں افغانستان، طالبان یا پاکستان کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے درحقیقت اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ’اسرائیل بنیاد پرست اسلام کے خلاف جنگ میں سب سے آگے ہے۔‘ ا±نھوں نے کسی بھی ملک کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں بنیاد پرستی اسلام کی جڑ ہے۔ ڈیپ فیک ویڈیو میں انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی افغان طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ کا نام لیتے اور افغانستان کے لیے اربوں ڈالرز کی امداد کا اعلان کرتے دکھایا گیا لیکن درحقیقت مودی نے اپنی تقریر میں اس کا کوئی ذکر نہیں کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں