خضدار میں عوام محفوظ نہیں، ایک ہفتے کے اندر میر کامران جتک کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے، سردار زادہ عمران جتک
خضدار (بیورو رپورٹ) پیپلز پارٹی کے رہنماءسردارزادہ میرعمران جتک، چیف آف جتک سردارمحمد علی خان جتک کے ہمراہ خضدار پریس کلب میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپنے بھائی میر کامران جتک کے قتل کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا اور ضلعی انتظامیہ کو قاتلوں کی گرفتاری کے لیئے ایک ہفتے کی مہلت دیدی۔ پریس کانفرنس میں میر جاورخان جتک، میر بھاول خان جتک، حاجی محمد خان جتک، میرخورشید جتک، میر طریل خان جتک، محمد انور جتک، بشیراحمد جتک،ممتازاحمد جتک اور دیگرجتک قبائل کے معتبرین بڑی تعداد میں شریک تھے۔ سردارزادہ میر عمران جتک نے کہا کہ گزشتہ دنوں خضدار شہر میں دن دہاڑے ان کے بھائی میر کامران جتک کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے قتل کردیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ شرپسندوں کو کس کی حمایت حاصل ہے اور کون سی طاقت ان کی پشت پناہی کررہی ہے جو معصوم شہریوں کو نشانہ بنارہے ہیں۔ انہوں نے خضدار میں امن و امان کی خراب صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ، لیویز اور پولیس امن بحال کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔ شہر میں عوام کے جان و مال اور عزت محفوظ نہیں، جبکہ انتظامیہ کے افسران سیکڑوں اہلکاروں کے کانوائے میں سفر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک مرکزی رہنما ہونے کے باوجود انہیں اپنے بھائی کے قاتلوں کی عدم گرفتاری پر پریس کانفرنس کرنا پڑ رہی ہے، تو عام عوام کو انصاف کیسے مل سکتا ہے۔ انہوں نے صدر پاکستان آصف علی زرداری، وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور آئی جی بلوچستان سے اپیل کی کہ وہ میر کامران جتک کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے لیکن تاحال مجرمان گرفتار نہیں ہوئے۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ کو ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ اگر قاتل گرفتار نہ ہوئے تو جتک قبیلہ پرامن احتجاج کا حق استعمال کرے گا۔ پہلے مرحلے میں شٹر ڈاﺅن ہڑتال اور اس کے بعد تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر کراچی کوئٹہ نیشنل ہائی وے کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کردیا جائے گا۔


