تنخواہوں کی فراہمی، الاﺅنسز کی منسوخی کا فیصلہ واپس لینے تک احتجاج جاری رہے گا، اساتذہ و ملازمین جامعہ بلوچستان
کوئٹہ (پ ر) اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن آفیسرز و ایمپلائز ایسوسی ایشن جامعہ بلوچستان کے زیراہتمام بروز سوموار 30 جون کو بلوچستان گرینڈ الائنس کے غیرقانونی طور پر گرفتار قائدین پروفیسر عبدالقدوس کاکڑ، اصغر علی بنگلزئی، نذیر احمد لہڑی، شاہ علی بگٹی، سید شاہ بابر و سینکڑوں ملازمین کی رہائی اور ڈسپیریٹی الاﺅنس وفاقی حکومت کی طرز پر 30 فیصد کرنے، تنخواہوں و پنشنز کو مہنگائی کی شرح کے مطابق بڑھانے خصوصاً صوبے کی تمام یونیورسٹیوں کے لئے صوبائی حکومت کی بجٹ میں وعدے کے مطابق 11 ارب روپے مختص کرنے اور صوبائی حکومت کی جانب سے یونیورسٹیوں کے منظور شدہ الاﺅنسز کی غیرقانونی طور پر منسوخی کے نوٹیفکیشن کو واپس لینے کےلئے گرینڈ الائنس کے فیصلے کے مطابق جامعہ بلوچستان میں تمام سرکاری امور سے احتجاجاً بائیکاٹ کیا گیا۔ اس سلسلے میں جامعہ بلوچستان میں ایک پرجوش احتجاجی مظاہرہ زیر صدارت پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ منعقد ہوا۔ جس میں درجنوں اساتذہ کرام، افسران اور ملازمین نے شرکت کی۔ مظاہرین سے پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ صوبائی وزراءراحیلہ حمید درانی، بخت محمد کاکڑ اور میر شعیب نوشیروانی نے بلوچستان گرینڈ الائنس کے قائدین سے 17 جون کو مذاکرات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وعدہ کیا کہ صوبے بھر کے ملازمین کی تنخواہوں میں 30 فیصد ڈسپیریٹی الاﺅنس دیا جائے گا اور مہنگائی کی شرح کے مطابق تنخواہوں اور پنشنز میں اضافہ کیا جائے گا خصوصاً صوبے بھر کی یونیورسٹیوں کے لئے صوبائی حکومت کی جانب سے بجٹ میں 11 ارب روپے مختص کیا جائے گا اور صوبائی حکومت کی جانب سے یونیورسٹیوں کے منظور شدہ الاﺅنسز کی کٹوتی کے نوٹیفکیشن کو واپس لینے کےلئے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائی جائے گی لیکن بجٹ پیش ہونے کے وقت وعدہ خلافی کرکے دھوکہ دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے گرینڈ الائنس کے قائدین کو مذاکرات پر بلا کر دھوکہ دہی سے گرفتار کیا اور 24 جون کو گرینڈ الائنس کے پلیٹ فارم سے صوبائی اسمبلی کے سامنے پرامن احتجاج کےلئے اساتذہ کرام اور ملازمین جمع ہونا شروع ہوئے تو انتہائی شرمناک طریقے سے لاٹھی چارج اور آنسو گیس استعمال کیا گیا، جس میں درجنوں اساتذہ کرام اور ملازمین بشمول خواتین زخمی ہوئے اور درجنوں اساتذہ کرام اور ملازمین کو گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ قائدین کے گھروں پر چھاپے مارے گئے جس میں ایمپلائز ایسوسی ایشن کے صدر شاہ علی بگٹی، آفیسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین نذیر احمد لہڑی اور فنانس سیکرٹری سید شاہ بابر کو رات کے اندھیرے میں گرفتار کیا گیا۔ مقررین نے گرفتار قائدین کو فوراً رہا کرانے اور مطالبات کو وعدے کے مطابق تسلیم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ جامعہ بلوچستان کے اساتذہ کرام اور افسران کو پچھلے دو مہینوں سے تنخواہوں اور پنشنز سے محروم رکھا گیا ہے جبکہ گزشتہ مالی سال کے سالانہ بجٹ میں اعلان شدہ اضافے سے اب تک محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ کے وائس چانسلر، پرو وائس چانسلر سمیت رجسٹرار اور ٹریژار کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اساتذہ کرام اور ملازمین کے لئے ماہانہ تنخواہوں اور پنشنز کی بروقت و مکمل ادائیگی ممکن بنائے۔ آخر میں تمام اساتذہ کرام، افسران اور ملازمین سے درخواست کی گئی کہ وہ جاری تحریک کو کامیاب بنانے کے لئے بھرپور انداز میں شرکت کریں اور روزانہ جامعہ بلوچستان میں صبح دس بجے احتجاجی مظاہرہ کےلئے زیادہ سے زیادہ تعداد میں جمع ہوں۔


