شام، سویدا میں نسلی لڑائی کے دوران سیکڑوں افراد ہلاک، ہزاروں افراد کی نقل مکانی، حکام کا نئی جنگ بندی کا اعلان
دمشق (مانیٹرنگ ڈیسک) شام کی وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ جنوبی صوبے سویدا میں سیکورٹی فورسز کی تعیناتی شروع کر دی ہے، جہاں دروز اور بدو مسلح گروہوں اور سرکاری فورسز کے درمیان شدید لڑائی میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں، اس صورتحال کو اسرائیلی فوجی مداخلت نے مزید بگاڑ دیا ہے۔ قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق ہفتے کے روز یہ تعیناتی اس وقت ہوئی جب امریکا نے اعلان کیا کہ اسرائیل اور شام نے فائربندی پر اتفاق کیا ہے، جو ایک غیر یقینی جنگ بندی ہے کیوں کہ رات بھر جھڑپیں جاری رہی تھیں۔ شامی حکومت نے ہفتے کی صبح جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام شامی خون کو بہنے سے بچانے، شامی سرزمین کی وحدت اور اس کے عوام کی سلامتی کے تحفظ کے لیے کیا جا رہا ہے۔ دروز اور بدو مسلح گروہوں اور سرکاری افواج کے درمیان نسلی بنیادوں پر ہونے والی جھڑپوں میں حالیہ دنوں میں سیکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ الجزیرہ کے مطابق، ہفتے کی صبح تک یہ واضح نہیں تھا کہ آیا شامی فوجیں سویدا شہر پہنچ چکی ہیں یا اب بھی مضافات میں موجود ہیں۔ بدو قبائلی جنگجو حکومت کی طرف سے جنگ بندی سے متعلق مزید وضاحت کا انتظار کر رہے تھے، جب کہ دروز رہنماوں کے اس بارے میں مختلف خیالات ہیں، کچھ نے اس کا خیرمقدم کیا اور کچھ نے لڑائی جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ شامی وزارتِ صحت کے مطابق، دروز اکثریتی شہر میں حالیہ لڑائی میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کم از کم 260 ہو چکی ہے، بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت کے مطابق تقریباً 80 ہزار افراد اس علاقے سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔


