پنشن اور دیگر اخراجات کیلئے پیسے نہیں، وائس چانسلر جامعہ بلوچستان نے وزیراعلیٰ کو مالی امداد کیلئے خط لکھ دیا

کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر) ناکافی فنڈنگ اوراخراجات میں اضافے کی وجہ سے بلوچستان کی سب سے بڑی مادرعلمی بحران سے دوچار، یونیورسٹی کی بقا خطرے میںہے۔ریٹائرڈملازمین کی پنشن کی ادائیگی کیلئے پیسے نہیں ہیں، یونیورسٹی کے وائس چانسلرنے وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفرازبگٹی کے نام مالی امدادکیلئے خط لکھ دیا۔21جولائی 2025کووائس چانسلر یونیورسٹی آف بلوچستان کے سیکرٹریٹ سے ©”یونیورسٹی آف بلوچستان کو بچانے“ کے موضوع سے جاری ہونےوالے خط میں بتایاگیا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی قیادت میں حکومت کی تعلیمی ترقی کے لیے غیر متزلزل عزم اورکاوشوں سے صوبے میں تبدیلی کی پیش رفت ہوئی ہے اوربین الاقوامی شہرت یافتہ یونیورسٹیوں میں مکمل فنڈڈ پی ایچ ڈی اسکالرشپ کے آغاز سے ہمارے باصلاحیت نوجوانوں کونئے عالمی مواقع میسرہوئے ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کے وڑن ، وزیر تعلیم اور چیف سیکرٹری بلوچستان کی مشترکہ کاوشوں سے صوبے بھرکی یونیورسٹیوں کودرپیش مالی خسارے کوکم کرنے کیلئے ہائیرایجوکیشن کیلئے مختص2.5 ارب کے فنڈکوبڑھاکر 8 ارب روپے کردیاگیا۔خط میںوزیراعلیٰ بلوچستان کی توجہ یونیورسٹی آف بلوچستان کوئٹہ جوصوبے کی سب سے بڑی مادرعلمی ہے کی تشویشناک صورتحال کی طرف دلاتے ہوئے بتایاگیا ہے کہ 1970 سے اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور ثقافتی انضمام کا مرکز رہا ہے مگر اب شدید مالی، انتظامی اور علمی چیلنجز کی وجہ سے اس کے وجودکوبحران کاسامناہے۔ خط میں بتایاگیا ہے کہ یونیورسٹی میں 53 شعبہ جات، 6 فیکلٹی، اور متعدد خصوصی مراکز فعال ہیں جہاں 10,000 سے زائد طلباءکوعلم کی روشنی سے روشناس کرایاجارہاہے، مگر لیکن گزشتہ چند سالوں کی سابقہ ذمہ داریوں، ناکافی فنڈنگ اور آپریشنل اخراجات میں اضافے کی وجہ سے بلوچستان یونیورسٹی کوئٹہ کی بقا خطرے میں ہے۔خط میں بتایاگیا ہے کہ یونیورسٹی 2019 سے ریٹائر ہونے والے ملازمین کی پنشن کمیوٹیشن/گریجویٹی اور چھٹیوں کی ،2019 سے امتحانی بل، پی ایچ ڈی تھیسس کی تشخیص کے بل، اسٹیشنری، PERN وغیرہ ادا نہیں کیے گئے ہیں۔UoB بلوچستان کا سب سے قدیم ادارہ ہے اور اس کے فزیکل انفراسٹرکچر کو مرمت اور دیکھ بھال (R&M) کی بھی ضرورت ہے۔مگرمالی وسائل کی کمی کی وجہ سے یونیورسٹی تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔خط میں بتایاگیا ہے تحقیقی سرگرمیاں، لیبارٹریز اور لائبریریاں نہ صرف پرانی ہو چکی ہیں بلکہ ان میں جدید سہولیات کا فقدان ہے۔سیکیورٹی کے سنگین چیلنجز نے یونیورسٹی کو اضافی حفاظتی اقدامات کرنے پر مجبور کیا ہے، لیکن ان ضروریات کوپوری کے لیے کوئی فنڈز دستیاب نہیں ہیں۔وفاقی اور صوبائی گرانٹس میں کئی سالوں سے یونیورسٹی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے تناسب سے اضافہ نہیں کیا گیا۔خط میں مزیدبتایاگیا ہے کہ صوبے کی سب سے بڑی اور واحد جامع یونیورسٹی ہونے کے باوجود یونیورسٹی آف بلوچستان کو ناکافی مالی امداد مل رہی ہے۔ موجودہ آپریشنل خسارہ اور واجبات تقریباً ایک ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں۔ اگر اس معاملے میںبروقت عملی اقدامات نہیں کئے گئے تو یونیورسٹی مکمل طور پر غیر فعال ہو سکتی ہے جس سے ہزاروں طلبائ کامستقبل اور ملازمین کاروزگار خطرے میں پڑ جائے گا۔خط میں وزیراعلیٰ بلوچستان سے اپیل کی گئی ہے کہ اس ادارے کو بچانے کے لیے فوری اور طویل المدتی اقدامات کرتے ہوئے بلوچستان کے ہزاروں طلبہ کے مستقبل کو محفوظ بنایا جائے۔ خط میںوفاقی اور صوبائی حکومتوں سے خصوصی مالیاتی پیکج اور پائیدار فنڈنگ سپورٹ کرنے کی بھی درخواست کی گئی ہے تاکہ یونیورسٹی اپنے اہم تعلیمی، تحقیقی اور سماجی کردار کو جاری رکھ سکے۔اگر یہ ادارہ گرتا ہے تو نقصان صرف بلوچستان تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پوری قوم کو نقصان پہنچے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں