بلوچستان کے حالات انتہائی کشیدہ ہیں، مصنوعی قیادت کو عوام پر مسلط کردیا گیا ہے، میر کبیر کی سراج الحق سے گفتگو

کوئٹہ (پ ر) نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل سابقہ سینیٹر میر کبیر احمد محمد شہی نے جماعت اسلامی کے رہنما سابقہ سینیڑ سراج الحق کے اعزاز میں محمد شہی ہاﺅس میں عشائیہ کا اہتمام کیا۔ ان کے ہمراہ مولانا عبدالحق ہاشمی، مرتضیٰ خان کاکڑ، حاجی فاروق، آیت اللہ آغا، پروفیسر سلطان محمد کاکڑ، نقیب اللہ افغانی، نورالدین غلزئی، اسامہ ہاشمی اور دیگر اکابرین موجود تھے۔ اس موقع پر بالخصوص بلوچستان اور ملکی سیاسی صورتحال پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ میر کبیر احمد محمد شہی نے کہا کہ پالیسی ساز اداروں کی نا عاقبت اندیش پالیسیوں اور حکمت عملی کی وجہ سے بلوچستان کے حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔ ہماری جماعت نے ہمیشہ بر ملا ہر فورم پر کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی اور معاشی ہے۔ اور تاریخ بتاتی ہے کہ اس کو سیاسی تناظر اور حکمت عملی کے تحت ہی حل کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے برعکس ان سلگتی مسائل سے چشم پوشی کی روش اختیار کی گئی۔ حالیہ الیکشن میں حقیقی اور عوام کے منتخب نمائندوں کو نمائندگی دینے کے بجائے مصنوعی قیادت کو عوام پر مسلط کیا گیا۔ ایڈہاک ازم اور مصنوعی انداز سے مسائل حل نیں ہوسکتے بلکہ اس رویے کی وجہ سے عوام کا اعتماد حکومتی اداروں سے اٹھ گیا ہے۔ لاپتہ افراد کو منظر عام پر لانا حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن بلوچستان میں دستور اور قانون کو پاﺅں تلے روند کر ماوراے آئین اور قانون اقدامات حکمرانوں کا وتیرہ بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران ہوش کے ناخن لیں اور بلوچستان کے مسائل کو دستور اور جمہوری حکمت عملی اپنا کر حل کرے۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے رہنما سراج الحق نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس وقت ریاست شدید معاشی، سیاسی بحران سے گزر رہی ہے۔ ان حالات کے پیش نظر حقیقی سیاسی جماعتوں کو عوامی اور قومی مسائل پر مشترکہ حکمت عملی اور جہدوجہد وقت کی ضرورت اور انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ تمام مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر مشترکہ سیاسی جہدوجہد کے راستے کو اپنانا ہوگا۔ عشائیہ میں نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر شاویس بزنجو، مرکزی نائب صدر ڈاکٹر اسحاق بلوچ، صوبائی صدر بلوچستان اسلم بلوچ، سینڑل کمیٹی کے ممبر عبدالخالق بلوچ، مشکور انور بلوچ، عثمان مالک بلوچ، میر عطاالرحمان محمد شہی، میر عبداللہ جان محمد شہی، میر نوشیروان محمد شہی اور دیگر اکابرین موجود تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں