نیشنل میڈیکل سینٹرکے ڈاکٹروں کے غفلت سے مریض مفلوج، اہلخانہ کا علاج کروانے کا مطالبہ
کراچی : خضدار سے تعلق رکھنے والے ثنااللہ کے اہلخانہ کا کہناہے ہے کہ جنوری 2025کو وہ اپنے مریض کو بہتر علاج کے لیے کوئٹہ سے کراچی لے گئیں تھے لیکن نیشنل میڈیکل سینٹر(این ایم سی) کے ڈاکٹروں نے اس کی حالت مزید خراب کردی۔ انہوں نے میڈیا کو تفصیل بتاتے ہوئے کہا ہے کہ این ایم سی کے ڈاکٹروں نے ان کے مریض کے ریڑھ کی ہڈی میں غلط اینستھیزیا کا انجکشن لگا کر مریض کوبالکل مفلوج کر دیا میڈیکل ایمرجنسی کے بعد مریض کا علاج اگلے 12 سے 48 گھنٹوں میں کرنا ضروری تھا لیکن انہوں نے تاخیر کی کیونکہ وہاں ان کا اپنا ڈاکٹر موجود ہی نہیں تھا اورنہ ہی کسی دوسرے سرجن کو ریفر کیا گیا اس تاخیر کی وجہ سے مریض مفلوج ہوگیا۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ اس حوالے سے این ایم سی کے انتظامیہ اور سنیئر ڈاکٹرز نے یقین دہانی کرائی کہ مریض چھ ماہ بعد ٹھیک ہوجائیگا لیکن سات مہینے گزر گئے مریض کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ان کا کریئر بالکل تباہ ہوگیا ہے اس قبل نامور ملکی اور غیر ملکی این ایج اوز میں بڑے عہدوں پر فائز تھے اب یہ عالم ہے کہ وہ گھر سے باہر نہیں جاسکتے انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ این ایم سی ثنا اللہ کے علا ج کیلئے معاونت ادا کریں تاکہ وہ ان کے نقصان کا ازالہ ہوسکے اس سلسلے میں ہمارے خاندان کے بیشتر افراد این ایم سی کے اانتظامیہ کے کہنے پر متعدد بار کراچی جاچکے ہیں لیکن وہ اس مسئلے کو سنجید گی سے نہیں لے رہے اور مزید مالی بوجھ ڈال رہے ہیں ۔ کچھ روز قبل انتظامیہ نے ای میل اور واٹس اپ کا جواب دینا بھی بند کردیا ہے ۔ اہلخانہ کا کہنا ہے کہ وہ بلوچستان ہائیکورٹ میں وہ ایک پٹیشن دائر کرینگے اور ایک پریس کانفر نس کا بھی انعقاد کرینگے ۔


